around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

ایران کا قطر کے ذریعے جوہری معاملات پر تجاویز امریکا کو بھیجنے کا انکشاف

ایران کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق جوہری معاملات سے متعلق تجاویز قطر کے ذریعے امریکا کو بھیج دی گئی ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف سات شرائط کی تکمیل پر ہوں گے۔

around.pk·1h ago

ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ جوہری معاملات سے متعلق تجاویز قطر کے ذریعے امریکا کو بھیج دی گئی ہیں اور واشنگٹن اس وقت ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں، تاہم تجاویز کی تفصیلات کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد صورت حال میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس کے پیش نظر دونوں فریقوں کی جانب سے احتیاط برتی جا رہی ہے۔

ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران نے سفارتی حوالے سے امریکا کے لیے سات شرائط کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک یہ تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ ایرانی حکام کی جانب سے پہلے بھی مطالبات پیش کیے جا چکے ہیں جن میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے نکات شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکا کا مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات میں جوہری ہتھیاروں کے مسئلے کو زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ دونوں فریقوں کے درمیان شرائط اور ترجیحات میں واضح فرق موجود ہے، جس کی وجہ سے سفارتی پیش رفت کے امکانات کے بارے میں تاحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

واضح رہے کہ اس سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا تھا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اس تنازعے کی طرف مبذول ہو گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق قطر کے ذریعے تجاویز کی منتقلی اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک سفارتی راستے کو کھلا رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم شرائط کی نوعیت اور باہمی اعتماد کی کمی کے باعث مذاکراتی عمل کا مستقبل غیر یقینی ہے، اور اس حوالے سے مزید پیش رفت کا انحصار ثالثوں کی کوششوں اور دونوں فریقوں کی لچک پر ہوگا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں