around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

چوہدری سالک حسین کا پنجاب میں کرپشن کے بیان پر قائم رہنے کا اعلان

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔

around.pk·2h ago

وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان پر مکمل طور پر قائم ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو غرور اور تکبر سے محفوظ رکھے، اور انھیں اپنی بات پر کوئی پچھتاوا نہیں۔

صحافیوں نے وفاقی وزیر سے پوچھا کہ کیا وہ پنجاب حکومت پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کے ثبوت پیش کریں گے، تاہم انھوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی ان کی مرضی کے بغیر کیے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ انٹرویو تین ہفتے قبل کا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر پہلے ہی تعینات تھے۔

چوہدری سالک حسین نے کہا کہ صوبائی معاملات سے توجہ ہٹانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، یہ ایک معمول کا انٹرویو تھا جس میں ایک شخص نے سوال کیا اور انھوں نے دیانت داری سے اس کا جواب دیا۔ جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اس وقت بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے تو انھوں نے مختصر جواب دیا کہ جی ہاں، بالکل ہو رہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اٹک میں طلبہ سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ چوہدری سالک حسین کو پنجاب حکومت کے خلاف کرپشن کے دعوے پر ہرجانے کا نوٹس بھجوائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر الزام لگانے کے بجائے ثبوت پیش کریں اور اگر ان کے پاس ثبوت موجود ہیں تو سامنے لائیں ورنہ معاملہ عدالت میں لے جایا جائے گا۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت پنجاب واقعی اتنی کرپٹ ہے تو پھر وفاقی وزیر اس کے ساتھ بیٹھے رہنے کا جواز پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ جو شخص سفارش پر آتا ہے وہ ملک اور عوام کا بیڑا غرق کرتا ہے۔ اس حوالے سے مریم نواز نے چوہدری سالک حسین کے ساتھ ساتھ ایک نجی ٹی وی کے میزبان اور چینل کے چیئرمین کو بھی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ وفاقی وزیر کے ایک ٹی وی انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے رائے دی تھی۔ سیاسی حلقوں میں اس تبادلۂ خیال کو وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم دونوں جانب سے اب تک کوئی باقاعدہ عدالتی کارروائی سامنے نہیں آئی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں