around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 28°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 18°
کاروبار

کاٹن جنرز فورم کا حکومتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار، کپاس کے شعبے کو درپیش چیلنجز نمایاں

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں اور مارک اپ میں اضافے، درآمد کنندگان کو رعایتیں دینے اور کراپ زوننگ قوانین کے نفاذ میں ناکامی سے کپاس سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کی مایوسی بڑھ رہی ہے، جبکہ بھارت اور چین روئی کی تجارت میں جارحانہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔

around.pk·2m ago

پاکستان میں کپاس سے وابستہ کاروباری حلقوں کی جانب سے حکومتی معاشی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں اور مارک اپ کی شرحوں میں مسلسل اضافے، برآمد کنندگان کے بجائے درآمد کنندگان کو غیر معمولی رعایتیں دینے اور کراپ زوننگ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کپاس کے شعبے سے جڑے اسٹیک ہولڈرز کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے برعکس بھارت نے اپنی کاٹن ایکسپورٹس کو فروغ دینے کے لیے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات کی مدت 31 دسمبر تک بڑھا دی ہے، جبکہ چین نے بھی غیر متوقع طور پر امریکا سے بڑی مقدار میں روئی کی خریداری شروع کر دی ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکا سے مختلف ممالک کے خریداروں نے دو لاکھ سولہ ہزار پانچ سو گانٹھوں کے برآمدی معاہدے کیے، جن میں چین 52 ہزار ایک سو گانٹھوں کے ساتھ سرفہرست رہا۔

فورم کے چیئرمین کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں کپاس کی بحالی کے لیے چند اقدامات کرنے جا رہی ہیں، جن میں اپٹما کی سربراہی میں کاٹن بورڈ کا قیام اور کاٹن سیڈ کی درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کپاس کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ کاٹن زونز میں گنے کی کاشت اور نئی شوگر ملوں کے قیام پر پابندی کے اقدامات کا نظر نہ آنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین سے اصل نرخوں سے کم قیمت پر کروڑوں میٹر فیبرکس اور لاکھوں ٹن سوتی دھاگے کی مبینہ درآمدات کے باعث مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ نیشنل ٹیرف کمیشن نے پانچ بڑی ٹیکسٹائل شکایات کو درست قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے اور متاثرہ تمام ٹیکسٹائل ملوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی شکایات این ٹی سی کے پاس جمع کرائیں۔

روئی کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ معیاری روئی کی محدود دستیابی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی اور خلیجی کشیدگی کے سبب گزشتہ ہفتے ملکی منڈی میں مندی کا رجحان غالب رہا اور فی من قیمت میں 100 سے 200 روپے کی کمی واقع ہوئی۔ تاہم تین نومبر کو کپاس کی تازہ پیداواری اعدادوشمار آنے کے بعد قیمتوں کا واضح رجحان سامنے آ سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان کشیدہ حالات اور سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے افغانستان میں پیدا ہونے والی 10 سے 12 لاکھ گانٹھوں کی درآمدات گزشتہ ایک سال سے معطل ہیں، تاہم اطلاعات ہیں کہ افغانستان اب ترکی کو ریلوے کے ذریعے روئی برآمد کر رہا ہے اور ابتدائی طور پر 600 ٹن روئی کا ایک کنسائنمنٹ ترکی روانہ کیا جا چکا ہے۔

ادھر ایندھن اور ٹیکس کے محاذ پر بھی خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور متعلقہ ایسوسی ایشن نے 16 نومبر سے فروخت بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایف بی آر چار ماہ کے ٹیکس وصولی کے ہدف میں ناکام رہی ہے اور 96 ارب روپے کی کمی کا انکشاف ہوا ہے۔

ان مجموعی عوامل کے پیش نظر کپاس اور ٹیکسٹائل شعبے سے وابستہ حلقوں کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ برآمدی صنعت کو سہولت دینے، توانائی کے اخراجات کم کرنے اور کراپ زوننگ قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے گی تاکہ ملکی زرمبادلہ میں اہم کردار ادا کرنے والا یہ شعبہ دوبارہ اپنی کارکردگی بحال کر سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں