گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کے غازیوں کی داستانِ قربانی
1947ء کی جنگِ آزادی میں گلگت بلتستان کے غازیوں نے بغیر اسلحے اور تنخواہ کے دشمن کا مقابلہ کیا اور عظیم قربانیوں سے آزادی حاصل کی۔

گلگت بلتستان کی تاریخ میں 1947ء کی جنگِ آزادی کا باب بے مثال قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔ اس جنگ میں حصہ لینے والے مقامی غازیوں نے نہ صرف بے پناہ جرات کا مظاہرہ کیا بلکہ انتہائی محدود وسائل کے باوجود دشمن کے خلاف ڈٹ کر لڑے۔ ان غازیوں کی اپنی زبانی روایات آج بھی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
جنگِ آزادی کے غازی سپاہی علی مدد کا کہنا ہے کہ اُس وقت نہ روٹی میسر تھی، نہ کپڑا اور نہ کوئی باقاعدہ اسلحہ، لیکن جوانوں کے دل میں مادرِ وطن کی محبت بھری ہوئی تھی۔ ان کے مطابق دشمن کو شکست دینے کے بعد اسی کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں سے بھارت کا مقابلہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کو آزادی آسانی سے نہیں ملی بلکہ یہ بے شمار شہادتوں اور عظیم قربانیوں کی بدولت حاصل ہوئی۔
غازی حولادار بیکو نے بتایا کہ دشمن نے حملہ کیا تو ہمارے بہادر جوانوں نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے اسے گھیرے میں لے لیا اور شکستِ فاش دی۔ اسی طرح غازی لانس نائیک عبدالرشید کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی تنخواہ، عہدے یا ذاتی مفاد کی لالچ کے بغیر صرف اور صرف وطنِ عزیز کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔
غازی سپاہی تیغون شاہ نے اپنی یادداشتیں سناتے ہوئے بتایا کہ بزدل دشمن نے انہیں ایک سال پانچ ماہ تک قید رکھا اور ناروا سلوک کیا، تاہم قید و بند کے باوجود وہ دشمن سے لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ غازی علی مدد نے کہا کہ وہ خود جنگِ آزادی میں شریک رہے اور ان کے بیٹے بھی ملک کی خاطر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ تاریخی داستانیں ثابت کرتی ہیں کہ گلگت بلتستان کی آزادی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ غازیوں کی یہ روایات نہ صرف مقامی تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں بلکہ قومی یکجہتی اور دفاعِ وطن کے جذبے کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو نصابی کتب اور عوامی یادگاروں کے ذریعے محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ نئی نسل اپنی تاریخ سے روشناس ہو اور وطن کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔
گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کی یہ کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ آزادی کی نعمت بے شمار قربانیوں کے بعد نصیب ہوتی ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
غازیوں کی اپنی زبانی سنائی گئی یہ داستانیں تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی یادداشت کا حصہ بھی ہیں، جنہیں آنے والی نسلوں تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔








