آزاد کشمیر کے نوجوانوں کا پرتشدد کارروائیوں پر شدید ردعمل، قانونی کارروائی کا مطالبہ
جہلم ویلی، نیلم، مظفرآباد، کوٹلی اور باغ کے نوجوانوں نے تخریبی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستوں کی بندش سے مریضوں اور ہنگامی امداد کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع کے نوجوانوں نے پرتشدد اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے شرپسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ جہلم ویلی، نیلم، مظفرآباد، کوٹلی اور باغ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے کہا کہ وہ فسادی جتھوں کے اصل مقاصد سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس قسم کی کارروائیوں کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
نوجوانوں کا کہنا تھا کہ پونچھ ڈویژن میں راستوں کی بندش کے باعث مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے اور ہنگامی امداد کی فراہمی میں سنگین مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مخصوص علاقوں میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے، لوگوں کو روزمرہ کے امور کے لیے بھی دشواری کا سامنا ہے اور بچوں کی تعلیم بھی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح جتھوں نے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر اسلحے کے زور پر شہریوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جس سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ نوجوانوں نے واضح کیا کہ شرپسند عناصر عوام پر پرتشدد حملوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں، اس لیے ان کے خلاف فوری اور موثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
مقامی نوجوانوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنائیں اور شہریوں کی جان و مال اور نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن ماحول کے بغیر تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی ممکن نہیں، اس لیے تخریب کاری کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں راستوں کی بندش اور غیر قانونی ناکوں کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر لوگوں کا مطالبہ ہے کہ عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے اور اسلحے کے زور پر شہری زندگی کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نوجوانوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ علاقے میں امن، تعلیم اور ترقی کے فروغ کے لیے پرامن طریقے سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا عوام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔








