around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 23°☀ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 17°
پاکستان

پاکستان کی سرحدی سلامتی اور افغانستان کی ذمے داریاں: ایک جامع جائزہ

ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیان نے افغانستان کی سرزمین پر مسلح گروہوں کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی کے معاملے کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں پاکستان کا مطالبہ اپنی سرزمین کے تحفظ اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کا ہے۔

around.pk·58m ago

افغانستان سے پاکستان کو درپیش سلامتی چیلنجز محض سرحدی کشیدگی یا دوطرفہ تعلقات کی سرد مہری تک محدود نہیں، بلکہ ان کے پس منظر میں علاقائی طاقتوں کی رقابت، غیر ریاستی مسلح گروہوں کا پھیلاؤ، سرحد پار دہشت گردی اور ریاستی نظم و نسق سے جڑے بنیادی سوالات بھی شامل ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ انٹرویو نے اسی پیچیدہ صورت حال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ سابق سوویت یونین کی مداخلت، امریکی قیادت میں طویل جنگ، خانہ جنگی، طالبان کا پہلا دورِ اقتدار، نائن الیون کے بعد امریکی مداخلت اور اگست 2021 میں طالبان کی واپسی جیسے مراحل نے افغان ریاست کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی پس منظر میں مختلف مسلح تنظیموں اور انتہا پسند گروہوں کو سرگرمیوں کے مواقع ملے، جبکہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

دہشت گردی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا حل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ طالبان کے لیے اصل امتحان یہ تھا کہ وہ عسکری تنظیم سے نکل کر ایک ذمے دار انتظامیہ کا کردار ادا کریں جو ریاستی ذمے داریاں پوری کر سکے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے یہ خدشات سامنے آتے رہے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے جیسے گروہ افغان سرزمین سے کارروائیاں منظم کرتے ہیں، جس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عام زندگی، کاروبار اور ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں بھی افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی، داعش خراسان، القاعدہ اور دیگر تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف متعدد حملے کیے۔ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مؤقف اختیار کرتے ہیں، لیکن بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کے خدشات کے پیش نظر قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت ہے۔

ریاستی نظم کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی سرحدوں پر مکمل اختیار رکھے، مسلح گروہوں پر ریاست کی رٹ نافذ کرے اور اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ طالبان قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ماضی کی جنگی رفاقتیں موجودہ ریاستی ذمے داریوں کا متبادل نہیں بن سکتیں، اور اقتدار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا ایک اہم پہلو سرحدی جغرافیہ اور باہمی معاشی انحصار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی، نسلی اور تجارتی رشتے صدیوں پر محیط ہیں، جبکہ لاکھوں افغان شہریوں نے مشکل وقت میں پاکستان میں پناہ حاصل کی۔ ایسے تاریخی رشتوں کو دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث مستقل کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے، مگر دوستی اور ہمسائیگی کا تقاضا یک طرفہ برداشت نہیں بلکہ باہمی احترام، ذمے داری اور اعتماد ہے۔

منشیات کے معاملے پر بھی حقائق کو درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت جاری ہے، حالانکہ طالبان پابندی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ منشیات کی غیر قانونی تجارت، ذخیرہ اندوزی اور متبادل نیٹ ورکس کی روک تھام اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ اس بحران کا مستقل حل ایک جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے جس میں سرحدی تحفظ، انٹیلی جنس تعاون، داخلی سلامتی، علاقائی سفارت کاری اور عالمی دباؤ ایک دوسرے کے معاون ہوں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں