امریکی مڈٹرم انتخابات: سینیٹ کی 11 نشستیں فیصلہ کن، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ
امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا، جبکہ سینیٹ کی 11 نشستیں دونوں بڑی جماعتوں کے لیے فیصلہ کن سمجھی جا رہی ہیں۔

امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق سینیٹ کی 11 نشستیں حکمران ریپبلکن پارٹی اور اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئی ہیں، اور انہی نشستوں کے نتائج سے ایوانِ بالا کا مستقبل طے ہو سکتا ہے۔
سی این این کے تجزیے کے مطابق ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ریپبلکنز کی چار نشستیں جیتنے کے ساتھ ساتھ اپنی تمام موجودہ نشستیں بھی برقرار رکھنی ہوں گی۔ گزشتہ کئی ماہ سے انتخابی ماحول ڈیموکریٹس کے حق میں دکھائی دے رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، مہنگائی، ایران سے متعلق معاملات اور حکومتی کارکردگی پر عوامی بے چینی شامل ہیں۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر کو مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن اور ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو کے مقابلے خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ مین، الاسکا، کنساس اور آئیووا جیسی ریاستوں میں بھی سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو برتری حاصل ہے، تاہم ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت میں آخری وقت پر اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس نسبتاً مضبوط پوزیشن میں ہیں، جبکہ جنوبی کیرولائنا میں ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم اور ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز کے درمیان غیر متوقع طور پر سخت مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کی کامیابی کے امکانات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق ان 11 نشستوں کی درجہ بندی انتخابی جائزوں، امیدواروں کی مالی معاونت، عوامی سروے اور سیاسی حالات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ تاہم واضح رہے کہ یہ درجہ بندی حتمی نتائج کی پیش گوئی نہیں ہے، اور اصل نتائج ووٹنگ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات کا اثر نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی معیشت اور سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے، اسی لیے ان نتائج کو بین الاقوامی سطح پر بھی قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔









