around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

ایران کا دعویٰ: ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات تہران کی کامیابی کا اعتراف ہیں

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات ایران کی کامیابی کے اعتراف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق قطر اور پاکستان ان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

around.pk·1h ago

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن ایران کی کامیابی کو تسلیم کر رہا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے پیر کے روز کہا کہ امریکا گزشتہ دو جنگوں میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور ثالثوں کے ذریعے ایران تک پہنچنے والے پیغامات اسی ناکامی کے اعتراف کی عکاسی کرتے ہیں۔

عارف نے مزید کہا کہ امریکا اپنی داخلی سیاسی صورت حال اور عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اقدامات کر رہا ہے، تاہم ایران کو بھیجے گئے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب ایران کی کامیابی مان رہا ہے۔ ایرانی قیادت حالیہ سفارتی رابطوں کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ قطر اور پاکستان ان رابطوں میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کو خصوصی اختیارات دیے ہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں سفارتی عمل کو سیاسی حمایت حاصل ہے اور مذاکراتی کوششوں کو ادارہ جاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ڈیلی صباح کے مطابق ایرانی حکام مذاکراتی پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر اپنے موقف کی مضبوطی قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے کی بحالی کا معاملہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ثالثوں کے ذریعے رابطے برقرار رہنے سے کشیدگی میں کمی اور اعتماد سازی کے امکانات بڑھتے ہیں، لیکن حتمی نتائج کا انحصار آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔ پاکستان اور قطر کے کردار کو اس تناظر میں خطے میں سفارتی استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں