around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 34°⛅ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 27°
دنیا

ایرانی صدر کا بیان: مذاکرات کے لیے تیار، مگر دباؤ میں ہتھیار نہیں ڈالیں گے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گی، تاہم ایران کسی دباؤ میں آکر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

around.pk·1h ago

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے آگے بڑھے گی، لیکن ایران کسی دباؤ میں آکر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ یہ بیان انہوں نے تہران میں ملک کے گورنروں اور میئرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

ایرانی صدر کے دفتر کے مطابق پزشکیان نے بتایا کہ سپریم لیڈر نے حکومت کو سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کے حوالے سے کچھ اختیارات دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

پزشکیان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان سرحد پار تجارت میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے تعاون سے اس مبینہ سازش کو ناکام بنائے گی اور عوامی یکجہتی ملک کی مشکلات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران ایک طرف سفارتی ذرائع سے تنازعات کو حل کرنے کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ کشیدگی اور علاقائی معاملات پر اپنا سخت مؤقف بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں رہے ہیں۔

ایرانی صدر کے اس بیان کو ایسے موقع پر اہمیت حاصل ہے جب عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق بات چیت کی رفتار پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ سفارتی راستے کی حمایت اور دباؤ کے سامنے جھک نہ جانے کی یہ دوہری پالیسی ایران کی موجودہ حکمت عملی کا مرکزی نکتہ دکھائی دیتی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں سپریم لیڈر کا کردار فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے، اور حکومت کو دیے گئے اختیارات کے دائرے میں ہی سفارتی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے لیے سفارت کاری اور داخلی یکجہتی دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں