برطانیہ کے نئے امیگریشن قوانین: مستقل رہائش کے لیے 5 سے 30 سال تک انتظار لازم
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں رہنے کا حق اب خودکار نہیں ہوگا بلکہ مقررہ شرائط پوری کرکے حاصل کرنا ہوگا۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے امیگریشن قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت ملک میں مستقل رہائش کا حق حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو مختلف شعبوں کے مطابق پانچ سے تیس سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق مستقل قیام کی درخواست کے لیے آمدنی، ملازمت، انگریزی زبان اور مالی ذمہ داریوں کو بنیادی شرائط قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق سوشل کیئر کے شعبے میں سالانہ پچیس ہزار پاؤنڈ کمانے والے کارکن اب پانچ سال بعد مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے، جبکہ اس سے قبل ان کے لیے یہ مدت پندرہ سال تھی۔ وزیر داخلہ کے مطابق مئی 2025 سے پہلے برطانیہ آنے والے افراد بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ اس کے برعکس کم آمدنی والے دیگر کارکنوں کے لیے مستقل رہائش کی مدت بڑھا کر دس سال کر دی گئی ہے، جبکہ سالانہ پچاس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے افراد اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے کارکن پانچ سال بعد مستقل قیام کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
حکومت کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ رکھنے، انگریزی زبان نہ بولنے، قرضے ادا نہ کرنے یا نیشنل انشورنس کی ادائیگی سے متعلق شرائط پوری نہ کرنے والے افراد کی مستقل رہائش کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔ شبانہ محمود کے مطابق قانونی راستے سے برطانیہ پہنچ کر پناہ حاصل کرنے والے افراد پانچ سال بعد مستقل رہائش کی اجازت طلب کر سکیں گے، جبکہ غیر قانونی طریقے سے آنے والے تارکین وطن کو اس درخواست کے لیے بیس سال انتظار کرنا ہوگا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں تعلیم یا ملازمت کرنے والے افراد کے لیے یہ مدت بیس سال ہوگی، جبکہ نہ ملازمت کرنے اور نہ تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے انتظار کی مدت مزید دس سال بڑھا کر تیس سال کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں رہنے کا حق اب خودکار طور پر نہیں ملے گا بلکہ اسے محنت اور مقررہ شرائط پوری کرکے حاصل کرنا ہوگا۔
مستقل رہائش حاصل کرنے والا شخص برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک قیام کے ساتھ ساتھ ملازمت اور تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی حاصل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اہلیت کی شرائط پوری کرنے پر سرکاری سہولیات کے لیے درخواست اور برطانوی شہریت کے حصول کے لیے بھی رجوع کر سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ کو ملک میں مستقل رہائش کے اہل افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ہے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران ملک کی آبادی میں چھبیس لاکھ افراد کا اضافہ ہوا، اور ادارے کی پیش گوئی ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان مزید سولہ لاکھ افراد برطانیہ میں آباد ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلے سے ملک میں موجود تارکین وطن پر نئے قوانین کے اطلاق کی تجاویز پر حکمران جماعت کے بعض ارکان نے تنقید بھی کی تھی، تاہم وزیر داخلہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن نظام میں اصلاحات کا مقصد عوام پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔










