اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی اکثریت ختم، عرب اتحاد 'بادشاہ گر' بن گیا
اسرائیل کے عام انتخابات کے بعد نیتن یاہو کی حکومت سازی مشکل میں ہے، جبکہ عرب اتحاد 19 نشستوں کے ساتھ فیصلہ کن کردار میں آ گیا ہے۔

اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے حالیہ عام انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست میں ایک نیا اور پیچیدہ مرحلہ پیدا کر دیا ہے۔ موصولہ نتائج کے مطابق موجودہ وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں، اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں جبکہ عرب اتحاد کو 19 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت کسی بھی اتحاد کے پاس موجود نہیں، جس کے باعث عرب اتحاد کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس مرتبہ عرب اسرائیلی ووٹرز نے غیر معمولی تعداد میں حصہ لیا، جس سے عرب اتحاد کی نشستوں میں اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ 2020 کے انتخابات میں عرب جماعتوں نے مشترکہ فہرست کی صورت میں 15 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ اس مرتبہ یہ تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت سازی کے عمل میں عرب اتحاد کی حمایت ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا ہے کہ عرب اتحاد کی جماعتوں نے قطر اور ترکیہ سے مالی معاونت حاصل کی اور انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ ان الزامات کو غیر مصدقہ قرار دیا جا رہا ہے اور یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس ایران کے ساتھ کشیدگی اور خطے کی صورتحال نے بھی اسرائیلی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ مختلف عوامی سروے بتاتے ہیں کہ جنگ سے متعلق فیصلوں کے بعد حکمران اتحاد کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں انتخابی نتائج کو حکومت کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، اور یہ واضح ہے کہ نیتن یاہو کو دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے عرب اتحاد کی حمایت درکار ہوگی، جس نے ماضی میں ان کی حکومت کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن اتحاد بھی اکثریت کے لیے انہی نشستوں پر منحصر ہے۔ اس صورتحال نے اسرائیلی سیاست کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور آئندہ چند روز میں حکومت سازی کے امکانات کا واضح ہونا باقی ہے۔
عالمی سطح پر بھی اسرائیلی انتخابات کے نتائج کو اہمیت حاصل ہے، کیونکہ خطے کی صورتحال اور ایران سے متعلق پالیسی پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کی سیاسی مستقبل کا انحصار اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے کی ان کی صلاحیت پر ہوگا۔









