بابا گرو نانک کے 557 ویں جنم دن پر پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دی
بابا گرو نانک کے 557 ویں جنم دن کے موقع پر پاکستان نے بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور راہداری کھول دی ہے، جسے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

بابا گرو نانک کے 557 ویں جنم دن کے موقع پر حکومت پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دی ہے تاکہ بھارتی سکھ یاتری پاکستان میں واقع مقدس مقامات کی زیارت اور مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔ اس سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور یاتریوں کی آمدورفت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے مئی 2025 سے کرتار پور راہداری کے ذریعے سکھ یاتریوں کی آمدورفت معطل کر رکھی ہے، جس کے لیے پہلگام واقعے کو جواز بنایا گیا۔ اس کے برعکس سکھ برادری مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ پاکستان میں مذہبی رسومات کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے لیے راہداری کھولی جائے۔
اسی تناظر میں 27 اکتوبر 2026 کو بھارتی پنجاب اسمبلی نے بھی کرتار پور راہداری کھولنے کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستان کی حکومت نے مذہبی خیرسگالی کے تحت 17 ستمبر 2026 کو راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا، جس پر اب عملی طور پر عمل درآمد ہو گیا ہے۔
بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے رویے کے برعکس پاکستان نے راہداری کھول کر مذہبی رواداری اور امن پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی حکومت اور عوام کا محبت، خلوص اور دوستانہ رویہ بین المذاہب ہم آہنگی کا بہترین نمونہ ہے۔
یاد رہے کہ کرتار پور راہداری گزشتہ برسوں میں بھی سکھ یاتریوں کے لیے ایک اہم ذریعہ رہی ہے، اور اس کے کھلنے سے دونوں ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر رابطے اور مذہبی سیاحت کو فروغ ملتا ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر یاتریوں کی سہولت کے لیے سکیورٹی، رہائش اور دیگر انتظامات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر مذہبی رواداری کی تصویر مزید مستحکم ہوگی اور خطے میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ سکھ برادری کی جانب سے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔








