around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 23°☀ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 17°
کاروبار

سندھ میں 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری، ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے انٹرنیشنل ملٹی گروپ کے وفد کی ملاقات، برآمدی فصلوں پر تحقیق اور پورٹ قاسم میں تل اور ارنڈی کے بیجوں کی پراسیسنگ پلانٹ کے قیام پر اتفاق۔

around.pk·47m ago

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے انٹرنیشنل ملٹی گروپ آف کمپنیز کے وفد نے ملاقات کی ہے جس میں صوبے میں برآمدی فصلوں پر تحقیق اور اعلیٰ قدر کی حامل زرعی پراسیسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کی قیادت کمپنی کے چیئرمین شیخ امجد رشید نے کی جبکہ اجلاس میں صوبائی وزراء اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت برآمدی فصلوں پر تحقیق کے فروغ کے لیے کمپنی کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور سرمایہ کاری اور زراعت کے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کمپنی کے ماہرین کے ساتھ مشاورت سے مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے کھلا ہے اور ہم تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کمپنی پورٹ قاسم میں تل اور ارنڈی کے بیجوں کی پراسیسنگ کے لیے 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس مجوزہ مربوط پلانٹ کا مقصد پاکستان میں زیادہ قدر برقرار رکھنا اور عالمی خریداروں کو معیاری مصنوعات فراہم کرنا ہے جبکہ پلانٹ میں تل کی پراسیسنگ، ارنڈی کے بیجوں کی تیاری اور ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات شامل ہوں گی۔

کمپنی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں تل کے تیل کی پراسیسنگ کا کوئی مناسب یونٹ موجود نہیں جبکہ کمپنی تلینی اور ضروری تیل کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی سطح پر ارنڈی کے بیجوں کی سالانہ پیداوار تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے جس میں بھارت کا حصہ تقریباً 80 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ پیداوار صرف 4 سے 5 ہزار میٹرک ٹن سالانہ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ کاشتکاروں کو تل اور ارنڈی جیسی نقد آور فصلوں کی جانب راغب کیا جائے اور محکمہ زراعت اس سلسلے میں کاشتکاروں کی رہنمائی کرے۔ کمپنی حکام کے مطابق وہ خود کاشتکار نہیں بلکہ معاہدے کے تحت ہائبرڈ ارنڈی بیج فراہم کرے گی اور کاشتکاروں کو طے شدہ شرائط کے تحت خریداری کی ضمانت بھی دے گی۔

اس منصوبے سے غیرملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دیہی نوجوانوں کے لیے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکام نے بتایا کہ مقامی پراسیسنگ سے پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی زیادہ قدر حاصل کر سکتا ہے کیونکہ ارنڈی کے تیل کی فی میٹرک ٹن قیمت 1600 سے 1700 ڈالر جبکہ سیباسک ایسڈ کی قیمت 4 ہزار سے 4500 ڈالر فی میٹرک ٹن تک ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں