around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°⛅ اسلام آباد 17°
کاروبار

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے ایران پالیسی میں تبدیلی کی توقع کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 4.7 فیصد گر کر 98.76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

around.pk·1h ago

عالمی تیل منڈی میں بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی، جسے ماہرین نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے منسلک کیا ہے۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 4.7 فیصد کم ہو کر 98.76 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں 4.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 91.73 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

تیل کی قیمتوں میں اس کمی کے نتیجے میں برینٹ خام تیل اکتوبر کے آغاز کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے نیچے آیا ہے۔ منڈی کے تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں یہ گراوٹ امریکی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکنز کی بھاری شکست کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔

سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد امریکی حکومت کی ایران سے متعلق پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ اس توقع نے تیل کی منڈی میں فروخت کا رجحان پیدا کیا، کیونکہ جغرافیائی سیاسی خطرات میں کمی آنے کی صورت میں سپلائی کی صورتحال بہتر ہونے کی امید بڑھ جاتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں خام تیل کی ترسیل میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی تھی، جس میں انتخابی نتائج کے بعد کچھ نرمی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سپلائی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس کے برقرار رہنے کی صورت میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم، اگر امریکی پالیسی میں سفارتی لچک پیدا ہوتی ہے اور تناؤ میں کمی آتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام متوقع ہے، جس کا اثر عالمی معیشت اور صارفین کی جیب پر بھی پڑے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں