around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°⛅ اسلام آباد 17°
دنیا

امریکی مڈٹرم انتخابات میں دو نوجوان مسلم سیاست دانوں کی تاریخی کامیابی

امریکی وسط مدتی انتخابات میں مصری نژاد ڈاکٹر عبدالرحمان السید اور بھارتی نژاد نبیلہ سید نے اہم نشستیں جیت کر مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی نمائندگی کی علامت قائم کی۔

around.pk·50m ago

امریکی وسط مدتی انتخابات میں دو نوجوان مسلم سیاست دانوں نے نمایاں کامیابی حاصل کرکے تاریخ رقم کردی ہے۔ مشیگن سے کامیاب ہونے والے 42 سالہ ڈاکٹر عبدالرحمان محمد السید ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی وفاقی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کا تعلق مصری تارکین وطن کے گھرانے سے ہے۔

ڈاکٹر عبدالرحمان السید پیشے کے لحاظ سے وبائی امراض کے ماہر ہیں اور ڈیٹرائٹ کے سابق ڈائریکٹر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی، مہنگائی میں کمی، سیاسی نظام میں بڑی کمپنیوں کے اثرورسوخ کا خاتمہ اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کی مخالفت جیسے موضوعات نمایاں رہے۔

دوسری جانب 27 سالہ نبیلہ سید نے الینوائے کے چھبیسویں انتخابی حلقے سے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دے کر ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ انہیں تقریباً 57 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف 43 فیصد ووٹ حاصل کرسکے۔ نبیلہ سید کے والدین کا تعلق بھارتی شہر حیدرآباد سے ہے، جبکہ وہ خود الینوائے کے شہر پالاٹائن میں پیدا ہوئیں اور وہیں پرورش پائی۔

نبیلہ سید نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے سیاسیات اور کاروباری انتظامیہ کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 2022 میں صرف 23 برس کی عمر میں الینوائے کے ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور اس وقت اپنی دوسری مدت پوری کر رہی ہیں۔ ان کی انتخابی ترجیحات میں مہنگائی، صحت کی سہولتوں تک رسائی، بچوں کی دیکھ بھال اور مصنوعی ذہانت کے مراکز سے بجلی کے اخراجات میں اضافے جیسے معاملات شامل تھے۔

دونوں کامیابیوں کو امریکی سیاست میں مسلمانوں اور نسلی اقلیتوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکی سیاسی منظرنامے میں متنوع پس منظر رکھنے والے نوجوان رہنماؤں کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ کامیابیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی سیاست میں اقلیتی برادریوں کی شرکت اور نمائندگی پر وسیع بحث جاری ہے۔ دونوں سیاست دانوں نے اپنی مہمات میں روزمرہ زندگی کے معاشی مسائل اور عوامی فلاح کو مرکزی حیثیت دی، جسے ان کی کامیابی کی اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں