ٹرمپ کی شکست کے 5 بڑے عوامل سامنے آ گئے: سروے
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کی وجوہات میں مہنگائی، ایران جنگ، کمزور انتخابی حکمت عملی، ٹرمپ کی گرتی مقبولیت اور اقلیتی ووٹروں کا رخ تبدیل ہونا شامل ہیں۔

امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی اور ریپبلکنز کی شدید پسپائی کے بعد مختلف جائزوں نے شکست کے پانچ اہم عوامل اجاگر کیے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ان عوامل میں مہنگائی، ایران کے خلاف جنگ، کمزور انتخابی حکمت عملی، ٹرمپ کی گرتی مقبولیت اور اقلیتی برادریوں کے ووٹروں کی ترجیحات میں تبدیلی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلا اور سب سے اہم عامل بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ ستمبر تک ایک سال کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ ایک عوامی جائزے میں 79 فیصد ووٹروں نے مہنگائی کو اپنے خاندان کی مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیا، جس سے متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
دوسرا بڑا عامل ایران کے خلاف فوجی کارروائی قرار دیا گیا۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع کیے گئے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا، جس سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی اور امریکی شہریوں کو بھی مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑا۔ جائزے کے مطابق 63 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط قرار دیا، جبکہ 74 فیصد نے کہا کہ یہ جنگ ان کے انتخابی فیصلے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تیسرا عامل ڈیموکریٹس کی منظم انتخابی مہم تھی، جس نے مہنگائی، صحت کی سہولتوں اور عام شہریوں کے معاشی مسائل کو مرکزی اہمیت دی۔ مضبوط مقامی امیدواروں نے روایتی ریپبلکن حلقوں میں بھی کامیابی حاصل کی۔ چوتھا عامل خود ٹرمپ کی گرتی مقبولیت بنی؛ انہوں نے اپنی شخصیت کو مہم کا مرکز بنایا، لیکن مہنگائی اور جنگ کے خلاف عوامی غصے نے الٹا ان کی جماعت کو نقصان پہنچایا۔
پانچواں بڑا عامل ہسپانوی اور سیاہ فام ووٹروں کا دوبارہ ڈیموکریٹس کی طرف رجوع کرنا تھا۔ ٹیکساس میں ہسپانوی اکثریتی اضلاع میں ڈیموکریٹس نے تینوں نشستیں جیت لیں، جبکہ تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسیوں پر بھی ناراضی میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایک جائزے میں 56 فیصد امریکیوں نے امیگریشن ادارے کے بارے میں منفی رائے دی۔
مجموعی طور پر مہنگائی، جنگی پالیسی، کمزور انتخابی حکمت عملی اور بدلتے عوامی رجحانات نے مل کر ریپبلکن پارٹی کو ایسا نقصان پہنچایا جس سے ٹرمپ کی باقی مدت صدارت میں سیاسی مشکلات مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔











