پنجاب سے 1 لاکھ 43 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی مکمل
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق ملک بھر سے اب تک 28 لاکھ 7 ہزار سے زائد جبکہ صوبہ پنجاب سے 1 لاکھ 43 ہزار 474 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جبکہ کرائے پر جائیداد دینے والے 803 افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلاء کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق ملک بھر سے اب تک مجموعی طور پر 28 لاکھ 7 ہزار 250 جبکہ صوبہ پنجاب سے 1 لاکھ 43 ہزار 474 افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ یہ کارروائیاں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب کے فارن نیشنل سکیورٹی ونگ کی جانب سے جاری ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق حکومتی پالیسی کے تحت بغیر قابلِ قبول ویزا مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ضروری دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں ان کے وطن واپس بھجوایا جاتا ہے۔ انخلاء کی اس مہم کے دوران صوبہ بھر کے رہائشی علاقوں اور بازاروں میں 4 لاکھ سے زائد سرچ آپریشن کیے گئے۔
ادھر غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو جائیداد کرائے پر دینے کے معاملے پر بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق ایسے 803 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جنہوں نے غیر قانونی مقیم افراد کو پراپرٹی کرائے پر فراہم کی۔
صوبے میں اس وقت 39 ہولڈنگ سینٹرز فعال ہیں جن میں 153 افغان شہری موجود ہیں۔ ان مراکز میں غیر قانونی افغان باشندوں کی عارضی رہائش، رجسٹریشن اور وطن واپسی کے انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے، اور متعلقہ افراد کو طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق تمام افغان شہریوں کا بغیر جائز ویزا قیام غیر قانونی ہے، اور اس حوالے سے جاری کریک ڈاؤن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ محکمے مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مہم کا مقصد دستاویزی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہے، تاکہ ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔








