around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کے لیے آٹھ قانونی اصول طے کر دیے

عدالتِ عظمیٰ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے حوالے سے آٹھ اہم اصول مقرر کیے ہیں، جن میں ناجائز رعایت کا استعمال، گواہوں پر دباؤ اور شواہد متاثر کرنا شامل ہیں۔

around.pk·52m ago

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے حوالے سے آٹھ اہم قانونی اصول طے کر دیے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے یہ فیصلہ تحریر کیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتوں کو ضمانت دیتے وقت ان اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ ضمانت کے قانونی عمل میں شفافیت برقرار رہے۔

فیصلے کے مطابق اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو تو اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے، استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈال کر شواہد متاثر کرنے یا رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے، یا عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کا خدشہ موجود ہو تو بھی ضمانت واپس لی جا سکتی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت، ضمانت کے دوران آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسی نوعیت کا دوسرا جرم کرنا، یا تفتیش کے دوران ایسے نئے حقائق و شواہد سامنے آنا جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کریں، ضمانت منسوخی کے لیے بنیاد بن سکتے ہیں۔

اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔ کیس کے ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ لاڑکانہ کے تھانہ رحمت پور کے علاقے میں تین مارچ 2024 کو پیش آیا، جہاں ڈسپوزل فیز سے اسپیشل لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جا رہی تھی اور اس دوران تار ٹوٹنے سے نور حسین نامی شخص جاں بحق ہو گیا۔

سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی تھی، تاہم سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر میں نو ماہ کی تاخیر اور دیگر بنیادوں پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر میں تاخیر اور ملزم کا کردار مزید تحقیق کا تقاضا کرتے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو بھیجنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی، چوری اور نجی سائفننگ میں ملوث افراد کے کردار کا واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی جائزہ لے سکے۔

یہ فیصلہ ملکی عدالتی نظام میں ضمانت کے معاملات کو مزید مضبوط اور شفاف بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جس سے قانونی عمل میں یکساں اصولوں کی پابندی کو فروغ ملے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں