around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 29°☀ لاہور 26°☀ اسلام آباد 23°
پاکستان

لاہور میں دس ماہ کے دوران 112 افراد کی خودکشی، ایدھی کی رپورٹ جاری

ایدھی کے ترجمان کے مطابق رواں سال جنوری سے اکتوبر تک لاہور میں 112 افراد نے خودکشی کی، جن میں 87 مرد اور 25 خواتین شامل ہیں۔ غربت، محبت میں ناکامی اور گھریلو ناچاقی جیسے عوامل واقعات کی وجہ قرار دیے گئے ہیں۔

around.pk·51m ago

لاہور میں خودکشی کے واقعات میں کمی کا رجحان نظر نہیں آ رہا اور رواں سال کے پہلے دس ماہ میں 112 افراد نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی جانیں گنوا دیں۔ یہ اعداد و شمار ایدھی کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جن کے مطابق یکم جنوری سے 31 اکتوبر کے دوران خودکشی کرنے والوں میں 87 مرد اور 25 خواتین شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق ماہانہ اعداد و شمار میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ جنوری میں 14 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 11 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں، جبکہ فروری میں 12 افراد نے خودکشی کی جن میں 11 مرد اور ایک خاتون تھی۔ مارچ کے دوران 6 افراد، اپریل میں 10 افراد اور مئی میں 13 افراد نے اپنی جان لی۔ جون میں یہ تعداد 5 تک محدود رہی، جہاں 4 مرد اور ایک خاتون جان سے گئیں۔

رپورٹ کے مطابق سال کے وسط میں خودکشی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ جولائی میں 14 افراد نے خودکشی کی جن میں 8 مرد اور 6 خواتین شامل تھیں، جو رواں سال کا بلند ترین ماہانہ عدد ہے۔ اگست میں 13، ستمبر میں 12 اور اکتوبر میں 13 واقعات سامنے آئے، جن میں ہر ماہ مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ رہی۔ اکتوبر میں 10 مرد اور 3 خواتین نے خودکشی کی۔

ایدھی کے ترجمان نے بتایا کہ ان واقعات کے پیچھے غربت، محبت میں ناکامی، گھریلو ناچاقی اور دیگر سماجی و نفسیاتی عوامل کارفرما رہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ اور ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی ایسے واقعات کو ہوا دیتی ہے، جبکہ ضروری مدد کی بروقت فراہمی صورتحال کو بدل سکتی ہے۔

یاد رہے کہ خودکشی ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کا شکار ہونے والے افراد اکثر ذہنی دباؤ، مالی مشکلات یا ازدواجی تنازعات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کی سفارش ہے کہ متاثرہ افراد یا ان کے اہل خانہ ہیلپ لائنز اور پیشہ ورانہ مشاورت سے رجوع کریں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں