around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 25°
دنیا

زیلینسکی کا روسی تیل تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے امریکہ سے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کی شرط

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایک ماہ کے لیے پیٹریاٹ میزائل اور فضائی دفاعی نظام فراہم کرے تو کیف اسی مدت تک روسی ریفائنریوں پر حملے روک سکتا ہے۔

around.pk·43m ago

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکہ کیف کو فضائی دفاعی نظام اور پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی میں تیزی لائے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلینسکی نے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر اور ان کے معاونین کے ساتھ ریفائنریوں پر حملوں کے حوالے سے تفصیلی اور بار بار بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیف روسی حملوں کا جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا، اور اگر امریکہ نہیں چاہتا کہ یوکرین روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنائے تو روس کو بھی یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملے بند کرنے ہوں گے۔

یوکرینی صدر نے ایک متبادل راستے کی طرف بھی اشارہ کیا اور واضح کیا کہ ان کا ملک یہ دفاعی نظام خریدنے اور اس کے لیے ضروری فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ صرف مفت امداد تک محدود نہیں ہے، اور اگر امریکہ ایک ماہ کے لیے میزائل سسٹم فراہم کرتا ہے تو یوکرین بھی اسی مدت کے لیے روسی ریفائنریوں پر اپنے حملے روک دے گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا انہیں خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پیشکش کو دباؤ کی ایک شکل سمجھ سکتے ہیں، زیلینسکی نے کہا کہ انہیں بڑے شراکت داروں کے ساتھ حقائق کا اشتراک کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا موقف تھا کہ شفاف بات چیت ہی باہمی اعتماد اور موثر تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازعے میں توانائی کے ڈھانچے بار بار نشانہ بنتے رہے ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں کو نشانہ بنانا اس حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد روس کی آمدنی کے ذرائع کو کمزور کرنا ہے، جبکہ روس یوکرین کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنا کر کیف کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق زیلینسکی کی یہ پیشکش امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور فوجی امداد کی رفتار تیز کرانے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ واشنگٹن اس شرط کا کیا جواب دیتا ہے، کیونکہ اس فیصلے کا تعلق نہ صرف یوکرین کی دفاعی صلاحیت سے ہے بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سلامتی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں