around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
دنیا

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکرز تباہ

ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکرز تباہ ہو گئے، جبکہ دونوں جہازوں کے نیویگیشن اور شناختی نظام بند ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔

around.pk·43m ago

ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکرز تباہ ہو گئے ہیں۔ فورس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ دھماکوں کے بعد دونوں جہازوں کو غیر متحرک حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

آئی آر جی سی نیوی کے مطابق دونوں ٹینکرز نے غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کے لیے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر دیے تھے، اور یہ جہاز امریکی فوجی تعاون سے کام کر رہے تھے۔ تاہم بیان میں ٹینکرز کی شناخت، ان کے عملے کی تفصیل یا ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسی طرح کے ایک اور واقعے میں ایک سپر ٹینکر آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک بارودی کان سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ان واقعات نے اس اہم سمندری گزرگاہ پر کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملے شروع کیے جانے کے بعد سے خطے میں سمندری کشیدگی برقرار ہے۔ اسی پس منظر میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت اور نیویگیشن کے معاملات پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ قطر کی ثالثی میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کا نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری تجارت کی بحالی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے مصروف سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف خطے بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری راستوں کی حفاظت اور شفاف معلومات کی فراہمی اس وقت سب سے اہم ہے، تاکہ تجارتی جہازوں کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات کو کم کیا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں