around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
دنیا

آبنائے ہرمز بحران: قطر کی ثالثی میں ایران کا 48 گھنٹوں کا نیا منصوبہ سامنے آ گیا

ایران نے قطر کی ثالثی میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا کے سامنے 48 گھنٹوں پر مشتمل نیا منصوبہ پیش کیا ہے، تاہم واشنگٹن نے اسے ابھی باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔

around.pk·1h ago

ایران نے خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا کے سامنے 48 گھنٹوں پر مشتمل ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یہ تجویز قطر کی ثالثی میں جاری بات چیت کے نتیجے میں سامنے آئی ہے اور اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال کو معمول پر لانا ہے۔

عراقچی کے مطابق نئی تجویز کے تحت پہلے دن امریکا کو کچھ مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے، جبکہ دوسرے دن آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایران نے اس سے قبل سات روز پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کو چھٹے دن کھولنے کی بات شامل تھی، تاہم قطری ثالثوں سے مشاورت کے بعد اس منصوبے کو مختصر کر کے دو دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات اب عمل درآمد کے مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ ان کا دورۂ دوحہ امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے نہیں تھا بلکہ بات چیت قطری ثالثوں کے ذریعے جاری رکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششیں آگے بڑھ رہی ہیں، مگر کوئی حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔

رپورٹس کے مطابق یہ دو روزہ منصوبہ فی الحال صرف ایک تجویز ہے اور امریکا نے اسے باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پہلے اس کی شرائط پوری کرے، جن میں پابندیوں میں نرمی بھی شامل بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم جہاز رانی کی معمول کی آمدورفت کی بحالی اور ایران کی شرائط پر اتفاق ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور تجارتی جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس بحران کا حل نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔

قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور بحری راستے کی صورتحال کو معمول پر لانا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی تصدیق اسی وقت ممکن ہو گی جب اس منصوبے پر عملی طور پر عمل درآمد شروع ہو اور دونوں فریقوں کی جانب سے اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں