around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 25°
دنیا

بھارت میں صحافتی آزادی پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور نئے ڈیجیٹل قانون پر تنازع

بھارت کی 21 بڑی میڈیا تنظیموں نے نئے ڈیجیٹل پرائیویسی قانون کو تحقیقاتی صحافت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صحافیوں کی گرفتاریوں اور آن لائن ہراسانی میں بھی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

around.pk·1h ago

بھارت میں صحافتی آزادی کے حوالے سے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور حالیہ برسوں میں میڈیا پر ریاستی دباؤ، قانونی کارروائیوں اور آن لائن ہراسانی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی 21 بڑی نیوز تنظیموں نے ملک کے نئے ڈیجیٹل پرائیویسی قانون کو تحقیقاتی صحافت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن نے اس قانون کو صحافت کے لیے محدود کرنے والا نظام قرار دیا ہے، اور میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط صحافیوں کو عوامی مفاد کے معاملات کی آزادانہ تحقیق سے روک سکتے ہیں۔ دوسری جانب رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حالیہ عرصے میں درجنوں صحافیوں کی گرفتاریوں نے میڈیا برادری میں تشویش پیدا کی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دو روز کے دوران 43 صحافیوں کی گرفتاریوں کو حکومتی رویے کے سخت ہونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان واقعات کی تفصیلات اور ان کے پس منظر پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، اور آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق کے بغیر ان اعداد و شمار کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں پرائیویسی قوانین اور ریگولیٹری ضوابط کا مقصد شہریوں کے ڈیٹا کا تحفظ ہونا چاہیے، لیکن اگر ان ضوابط کا غلط استعمال ہو تو یہ آزاد صحافت اور عوامی نگرانی کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ میڈیا تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ قانون میں شفافیت اور صحافتی استثنیٰ کو واضح طور پر شامل کیا جائے۔

اس صورتحال کا اثر نہ صرف بھارت کی اندرونی سیاست بلکہ خطے کی معلوماتی فضا پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ میڈیا کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتساب اور عوامی شعور کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ یہ معاملہ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ صحافتی آزادی سے متعلق ایسے تنازعات اکثر سیاسی بحث کا موضوع بنتے ہیں، اس لیے غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور تمام فریقین کے موقف کی نمائندگی ضروری ہے تاکہ عوام کو درست اور متوازن معلومات فراہم کی جا سکیں۔

اخبارات و میڈیا اداروں کا مطالبہ ہے کہ حکام صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں احتیاط برتیں اور آزادانہ رائے کے اظہار کو یقینی بنائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کے بغیر کسی بھی ملک میں شفاف حکمرانی اور عوامی اعتماد کا قیام مشکل ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں