سعودی فضائی دفاع نے حوثیوں کا بیلسٹک میزائل روک لیا، نجران، ابہا اور خمیس مشیط سے خطرے کے الرٹس ختم
سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا، جس کے بعد نجران، ابہا اور خمیس مشیط میں خطرے کی صورتِ حال ختم کر دی گئی ہے۔

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے مملکت کے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا ہے۔ یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے میزائل کو فضائی دفاع نے ہوا میں ہی نشانہ بنا کر ناکام بنایا۔
سعودی محکمہ شہری دفاع نے اعلان کیا ہے کہ نجران صوبے، خمیس مشیط گورنریٹ اور شہر ابہا میں خطرے کی صورتِ حال ختم ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق ان تینوں اہم علاقوں میں دیے گئے حفاظتی الرٹس اب ختم کر دیے گئے ہیں اور صورتِ حال معمول پر آ گئی ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ شہری دفاع کی جاری کردہ ہدایات پر عمل جاری رکھیں اور متاثرہ مقامات پر جمع ہونے یا وہاں ویڈیوز بنانے سے گریز کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں شہریوں کو ہیلپ لائن 998 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے واقعات، ان کے اثرات یا ان مقامات سے متعلق ویڈیوز بنانا، معلومات شائع کرنا یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ حکام نے زور دیا کہ شہری حساس سکیورٹی معلومات کی تشہیر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال کشیدہ ہے اور مختلف محاذوں پر کشیدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر صورتحال کو قابو میں لانے اور عوامی سطح پر حفاظتی ہدایات جاری کرنے کا مقصد شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل کو روکنا اس کی صلاحیت کا مظہر ہے، تاہم ایسے واقعات خطے میں کشیدگی کے خدشات کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔










