تھری ایم پی او کے تحت پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں
پشاور ہائیکورٹ کے عبوری حکم نامے کے خلاف ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت جمعرات کو 48 متفرق درخواستوں کی سماعت کرے گی، جس کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین کریں گے۔

پی ٹی آئی کارکنان کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے متعلق معاملہ وفاقی آئینی عدالت پہنچ گیا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں دائر متفرق درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے اور ان پر جمعرات کو کارروائی ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کرے گا، جس میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل ہوں گے۔ عدالت متفرق نوعیت کی 48 درخواستوں پر ایک ہی روز سماعت کرے گی۔
واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے عبوری حکم نامے کے ذریعے فریقین کی گرفتاریوں سے روک دیا تھا۔ اسی عبوری حکم نامے کے خلاف ایڈووکیٹ جرنل کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت عدالت کے سامنے آیا ہے جب صوبائی عدالت کے حکم نامے پر عمل درآمد اور اس کے دائرہ کار سے متعلق قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آئینی عدالت کی سماعت سے اس تنازعے کی قانونی حیثیت واضح ہونے کا امکان ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق آئینی عدالت کا یہ فیصلہ آئندہ کی کارروائیوں کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ طے ہوگا کہ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کی موجودگی میں گرفتاریوں سے متعلق کیا ضابطے لاگو ہوں گے۔
عدالت کی جانب سے سماعت کے لیے مقرر کردہ بینچ اور تاریخ کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔









