around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 35°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
پاکستان

پنجگور کی خاتون نے دہشتگرد تنظیم کے حوالے سے اہم انکشافات کر دیے

پنجگور کی ایک کم عمر بلوچ خاتون نے دہشتگرد تنظیم چھوڑنے کے بعد پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ تنظیم خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیے کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔

around.pk·1h ago

پنجگور سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر بلوچ خاتون نے دہشتگرد تنظیم چھوڑنے کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ تنظیم خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیے کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، اور یہ سلسلہ صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ لڑکیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

خاتون کے مطابق ان کے چچا کے قتل کے بعد تنظیم نے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور بدلہ لینے پر اکسایا۔ انہیں یہ ذمہ داری بھی دی گئی کہ وہ تنظیم کے لیے مزید لڑکیاں بھرتی کریں۔ اس طرح تنظیم نئی بھرتیوں کے لیے خواتین کو بطور ذریعہ استعمال کرتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشتگرد گروہ کس حد تک معصوم ذہنوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم کی جانب سے انہیں فدائی بننے کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے فتح اسکواڈ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو مختلف کرداروں میں استعمال کرنے کے لیے کس طرح ترغیب دیتی ہیں اور انہیں کس طرح منظم انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔

کم عمر خاتون نے اپنی غلطی پر شدید شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاست سے وفاداری کا عہد کیا اور کہا کہ وہ آئندہ ہمیشہ ریاست کی وفادار رہیں گی۔ ان کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ گمراہ کن پروپیگنڈے کے باوجود شعور اور رہنمائی کی صورت میں نوجوان نسل اپنے وطن اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے انکشافات دہشتگرد تنظیموں کے بھرتی کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جن میں سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ایپلیکیشنز کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں نوجوانوں اور خواتین کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی مہمات اور سماجی رابطوں کے ذریعے رہنمائی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف صرف سیکیورٹی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ سماجی سطح پر شعور بیدار کرنا، متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ریاست کی جانب سے ایسے افراد کی بحالی اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کی کوششیں خوش آئند ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں