around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 32°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
پاکستان

اسلام آباد کی عدالت نے ہراسانی اور نامناسب ویڈیو بنانے کے کیس میں مرکزی ملزم کو 7 سال قید کی سزا سنادی

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے پیکا کیس میں مرکزی ملزم راجہ حارث نوید کو سات سال قید بامشقت اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ معاونت کے الزام میں شریک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا۔

around.pk·9m ago

اسلام آباد کی ایک عدالت نے 16 سالہ میٹرک طالب علم کو ہراساں کرنے اور اس کی نامناسب ویڈیو بنانے سے متعلق سائبر کرائم کیس میں مرکزی ملزم کو سات سال قید بامشقت اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے یہ فیصلہ پیکا کیس کی سماعت کے دوران سنایا۔ عدالت کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنی ہوگی۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مرکزی ملزم راجہ حارث نوید نے دھوکے سے 16 سالہ طالب علم کو ڈرائنگ روم میں بند کیا اور گن پوائنٹ پر اسے ہراساں کرتے ہوئے اس کی رضامندی کے بغیر نازیبا اور متنازع ویڈیو ریکارڈ کی۔ یہ واقعہ طالب علم کے ساتھ پیش آیا جس پر سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

عدالت نے کیس میں معاونت کے الزام کا جائزہ لیتے ہوئے شریک ملزم شاہزیب معراج کے خلاف یہ الزام ثابت نہ ہونے پر اسے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ مرکزی ملزم کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے جبکہ شریک ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔

یہ فیصلہ سائبر جرائم اور ہراسانی کے واقعات میں قانونی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلے متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کے پیغام کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ نوجوانوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون موجود ہے جس کے تحت ہراسانی، غیر قانونی ویڈیو ریکارڈنگ اور ڈیجیٹل مواد کی منتقلی پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ عدالتوں کی جانب سے ایسے فیصلے قانون کے نفاذ اور متاثرین کے تحفظ کے عزم کا عکاس ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں