around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

الیکشن کمیشن کا ایم کیو ایم کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر شوکاز نوٹس

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب طلب کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں انتخابی نشان روکا جا سکتا ہے۔

around.pk·2h ago

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس 26 اکتوبر کو جاری کیا گیا اور پارٹی کو جواب جمع کرانے کے لیے 14 روز کی مہلت دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان مقررہ توسیعی مدت یعنی 15 اکتوبر 2026 تک بھی اپنے اندرونی انتخابات کرانے کی قانونی شرط پوری نہیں کر سکی۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے عہدیداروں کا باقاعدہ انتخاب کرانا قانونی تقاضا ہے اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔

کمیشن نے یاد دہانی کرائی کہ انتخابات مکمل ہونے کے سات روز کے اندر انتخابی سرٹیفکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ نوٹس کے مطابق مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اندرونی انتخابات نہ کرانے کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل نہیں رہے گی اور آئندہ انتخابات کے لیے اس کا انتخابی نشان روکا بھی جا سکتا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی جماعتوں کی جانب سے آئینی و قانونی تقاضے پورے کرنے کا معاملہ عوامی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے لیے ہر سال اندرونی انتخابات کرانا اور ان کا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرانا لازمی ہے۔ اس شرط کی خلاف ورزی پر کمیشن کو قانون کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل ہے، جس میں انتخابی نشان کی بحالی یا روک تھام جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ نوٹس سیاسی جماعتوں کی اندرونی جمہوریت اور شفافیت کے حوالے سے اہم پیغام ہے، کیونکہ کمیشن کی جانب سے تمام رجسٹرڈ جماعتوں پر یکساں قانونی تقاضے لاگو کیے جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان مقررہ مہلت کے اندر کمیشن کو کیا جواب فراہم کرتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں