ایم 4 موٹروے کی توسیع: وزیر مواصلات کا اگلے ماہ وسط تک ٹریفک بحال کرنے کا حکم
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ایم 4 موٹروے کی توسیعی منصوبے پر کام تیز کرنے اور اگلے ماہ کے وسط تک ٹریفک بحال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک 53 کلومیٹر طویل موٹروے کو چار سے چھ لین تک توسیع دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹروے ایم 4 کے توسیعی منصوبے پر تعمیراتی کام کی رفتار تیز کرنے اور اگلے ماہ کے وسط تک ٹریفک کی مکمل بحالی کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کمال پور انٹرچینج پر منصوبے کا معائنہ کیا اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، این ایل سی اور تعمیراتی کمپنیوں کے حکام سے پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ لی۔
وزیر مواصلات نے حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے پر مشینری اور افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے تاکہ تعمیراتی کام مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیار کے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور چونکہ منصوبے کے تمام فنڈز این ایچ اے نے خود فراہم کیے ہیں، اس لیے کسی صورت تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک 53 کلومیٹر طویل موٹروے ایم 4 کو چار سے چھ لین تک توسیع دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت موٹروے کے درمیان خوبصورت گرین بیلٹ بنایا جائے گا، کھجور کے پودے لگائے جائیں گے اور پورے روٹ پر مکمل لائٹنگ نصب کی جائے گی تاکہ سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنایا جا سکے۔
عبدالعلیم خان نے ہدایت دی کہ ریسٹ ایریاز کے ڈیزائن ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دی جائیں، کیونکہ حکومت ایم 4 کو ایک جدید اور معیاری شاہراہ بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کا 30 سال سے زیر التوا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے اور نئے سال کے آغاز پر عوام کو اس موٹروے کی صورت میں تحفہ دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موٹروے پولیس کے جوانوں نے اس منصوبے کے دوران شہادتیں دی ہیں اور ایم 4 کی توسیع سے سڑک حادثات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے این ایچ اے اور موٹروے پولیس افسران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ حکام کے مطابق توسیعی منصوبہ تین حصوں میں تقسیم ہے جن پر این ایل سی اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
دورے کے موقع پر چیئرمین این ایچ اے، این ایل سی اور تعمیراتی کمپنیوں کے سینئر حکام کے علاوہ سابق صوبائی وزیر میاں خالد محمود، سابق رکن قومی اسمبلی رانا نذیر احمد اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب صدیقی بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ یہ منصوبہ ملکی شاہراہوں کی جدید کاری اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔









