بلوچستان: دہشت گردی میں ملوث افراد سے 108 سے زائد خاندانوں کا اعلانِ لاتعلقی
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جنوری سے اکتوبر تک 108 سے زائد خاندانوں نے دہشت گردی میں ملوث اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، کوئٹہ، مستونگ اور کچھی کے متعدد خاندانوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد خاندانوں نے دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ اہلخانہ نے کہا ہے کہ اگر ان کے رشتہ دار دہشت گردوں کے ایجنڈے پر کام کرتے پائے گئے تو ان سے کوئی تعلق نہیں رکھا جائے گا۔
کوئٹہ میں جہانزیب، نور زیب، انور، مجیب، قاسم اور عبیداللہ کے اہلخانہ نے ان سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح مستونگ سے تعلق رکھنے والے یونس شاہوانی کے خاندان نے بھی ان کے کسی بھی عمل سے خود کو الگ قرار دیا ہے۔
کچھی کے علاقے میں عنایت اللہ، عبدالنافع، طائب اور یاسر کے اہلخانہ نے بھی ان سے لاتعلقی اختیار کی۔ خاندانوں کا موقف ہے کہ لاپتا ہونے کے بعد دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
اہلخانہ نے واضح کیا کہ وہ ایسے کسی فرد کی حمایت نہیں کریں گے جو دہشت گردوں کے ایجنڈے پر کام کرتا ہوا پایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کا ہر فرد امن اور قانون کی پاسداری کا پابند ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اکتوبر تک بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 108 سے زائد خاندان اپنے دہشت گرد بیٹوں اور بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کرچکے ہیں۔ یہ رجحان بتاتا ہے کہ صوبے کے عوام دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خاندانوں کا یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف سماجی مزاحمت کو مضبوط کرتا ہے اور عوام میں یہ پیغام دیتا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی کوئی حمایت نہیں کی جائے گی۔ اس عمل سے متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔








