بنوں میں آئی ڈی پیز کیمپ پر کواڈ کاپٹر حملہ، تین پولیس اہلکار زخمی
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں آئی ڈی پیز کیمپ کے ٹاور نمبر 3 پر کواڈ کاپٹر سے حملے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں آئی ڈی پیز کیمپ کے ٹاور نمبر 3 پر نامعلوم دہشت گردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے مذکورہ ٹاور کو نشانہ بنایا، جہاں تعینات سیکیورٹی اہلکار متاثر ہوئے۔
واقعے کے بعد زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں سیکیورٹی صورتحال مزید سخت کر دی گئی اور کیمپ کے گرد حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت ہو سکے اور اس کے پس پردہ محرکات کا تعین کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ کواڈ کاپٹر ایک چھوٹا بغیر پائلٹ ڈرون ہوتا ہے جو چار روٹرز پر پرواز کرتا ہے اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس طرح کے ڈرون کس طرح دہشت گردانہ مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
بنوں میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات اور چوکیوں کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں موٹرسائیکل میں نصب بارودی مواد کے ذریعے کیے جانے والے حملے بھی شامل ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کا اس طرح غلط استعمال سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم لاگت اور آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے کواڈ کاپٹر دہشت گرد گروہوں کے لیے پرکشش ہدف بن سکتے ہیں، اس لیے ایسے آلات کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ان کے استعمال پر موثر پابندیوں کی ضرورت ہے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کی توقع ہے۔








