around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 23°⛅ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 17°
کاروبار

جی 24 گروپ کی قیادت: پاکستان کے لیے معاشی سفارت کاری کا نیا موقع یا صرف ایک منصب؟

پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے اتحاد جی 24 گروپ کی سربراہی سنبھال لی ہے۔ یہ منصب پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے غریب ممالک کی اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، مگر اصل امتحان اس قیادت کو عملی مفادات میں بدلنا ہے۔

around.pk·2h ago

پاکستان نے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتحاد جی 24 گروپ کی سربراہی سنبھال لی ہے۔ یہ ایسا منصب ہے جو طویل عرصے سے معاشی دباؤ کا شکار ملک کو عالمی فورم پر اپنی بات کہنے کا موقع دیتا ہے۔ تاہم ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ منصب ملنا ایک بات ہے اور اسے حقیقی اثر و رسوخ میں بدلنا بالکل دوسری، جس کے لیے مسلسل محنت اور واضح حکمت عملی درکار ہے۔

اس قیادت کے ساتھ وزیر خزانہ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس پلیٹ فارم کے ذریعے عوام کو سستی بجلی، کم قیمت ایندھن، روزگار اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط سے نجات دلوائی جا سکے گی۔ کیا دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے گا کہ بعض عالمی مالیاتی پالیسیوں نے پاکستان جیسے ممالک میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کو مزید بڑھایا ہے؟ اسی طرح 2022 کے سیلاب، دہشت گردی کے واقعات اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ بھی عالمی سطح پر اٹھایا جانا ضروری ہے۔

پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ آواز بنے۔ اگر یہ ممالک متحد ہو کر عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ایم ایف کے سامنے ایک مضبوط موقف اٹھائیں تو قرض کی آسان شرائط اور پالیسی اصلاحات کا مطالبہ کہیں زیادہ وزن رکھ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی توانائی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست درآمدی ممالک کے زرمبادلہ ذخائر اور عوام کی قوت خرید پر اثر ڈالتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت زیادہ موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ متاثرہ ممالک کے لیے برائے نام گرانٹس کے بجائے ضرورت کے مطابق مالی امداد کا مطالبہ کیا جانا چاہیے، اور عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں میں ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ 2022 کے سیلاب زدگان کے مسائل، آئندہ ممکنہ آفات اور دیگر غریب ممالک کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور مشترکہ لائحہ عمل پیش کرے۔

تاہم اصل امتحان یہی ہے کہ حکومت اس نئی معاشی قیادت کو کس طرح ملکی معیشت کے حق میں استعمال کرتی ہے۔ وزیر خزانہ نے اپنی ترجیحات کا اعلان کر دیا ہے، لیکن صرف آواز اٹھانا کافی نہیں۔ جی 24 کے فیصلہ سازی کے عمل میں حقیقی کردار حاصل کرنا اور مطالبات کو عملی پالیسیوں میں بدلنا ہی اس قیادت کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوگا۔

یوں تو یہ منصب پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور معاشی موقع ہے، مگر اس کا فائدہ تبھی حاصل ہوگا جب ملکی مفادات اور غریب ممالک کی مشترکہ ضروریات کو ایک مؤثر حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ قیادت محض اعلانات تک محدود رہتی ہے یا حقیقی معاشی سفارت کاری کا روپ دھارتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں