around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°⛅ اسلام آباد 18°
پاکستان

شارع فیصل پر لاپرواہی سے چلنے والے ریوو ڈالے کی وجہ سے اسکول وین حادثے کا شکار، بچے محفوظ رہے

کراچی کے علاقے شارع فیصل پر ناتھا خان پل سے قبل ایک تیز رفتار ریوو ڈالے کی لاپرواہی کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، تاہم اسکول وین میں سوار بچے ڈرائیور کی حاضر دماغی سے محفوظ رہے۔

around.pk·2h ago

کراچی کے مصروف ترین راستے شارع فیصل پر جمعرات کے روز ایک سنگین ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ریوو ڈالے کی لاپرواہی کے سبب بچوں کی اسکول وین سمیت متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ یہ واقعہ ناتھا خان پل سے قبل پیش آیا، جس کی زد میں آنے والی اسکول وین میں دو سے آٹھ برس کی عمر کے بچے اور بچیاں سوار تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ریوو ڈالے نے آگے چلتی ایک گاڑی کو دبایا، جس پر کار سوار نے خود کو بچانے کے لیے اچانک بریک لگائی اور پیچھے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ اس حادثے میں مجموعی طور پر چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم اسکول وین کے ڈرائیور کی فوری ذہانت اور بروقت ردعمل کی بدولت بچے کسی بڑے نقصان سے بچ گئے۔

واقعے کے بعد وین میں موجود بچوں میں شدید خوف اور گھبراہٹ پھیل گئی اور وہ بلند آواز میں رونے لگے۔ سڑک پر موجود شہریوں نے موقع پر پہنچ کر بچوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور انہیں تسلی دی۔ حادثے کے نتیجے میں اسکول وین کا ڈرائیور والا دروازہ اور گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

اس واقعے نے شہر میں ٹریفک قوانین کی پاسداری اور ریوو ڈالوں جیسی تیز رفتار گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی لاپرواہی کے حوالے سے تشویش کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شارع فیصل جیسے مصروف راستوں پر تیز رفتاری اور بے احتیاط ڈرائیونگ نہ صرف قیمتی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ عام شہریوں کے روزمرہ سفر کو بھی متاثر کرتی ہے۔

واضح رہے کہ اسکول وینز میں بچوں کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور ڈرائیوروں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس واقعے نے اس امر کی یاد دہانی کرائی ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانا کتنا اہم ہے۔

مقامی حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی متوقع ہے، جب کہ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے تاکہ اس طرح کے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں