مہنگائی کے دباؤ میں متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر، خودکشی کے بڑھتے واقعات پر تشویش
بڑھتی مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ مالی دباؤ کے باعث خودکشی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں بلکہ متوسط طبقہ بھی اس سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اخراجات میں مسلسل اضافہ اور آمدنی میں کمی کے باعث بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں عوام کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ یہ تینوں اشیاء حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور عوام انہیں مہنگائی کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن طبقات کو یہ سہولیات سرکاری سطح پر مفت یا کم لاگت پر دستیاب ہیں، انہیں عام شہری کی مشکلات کا اندازہ نہیں۔ حکومت نے توانائی اور ایندھن کو آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے جس کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔
مذہبی حلقوں میں بھی ان مسائل کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور معاشرتی بے راہ روی اور دین سے دوری کو ان حالات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ مساجد سے منسلب افراد کی تنخواہیں کم ہونے کے باوجود وہ محدود وسائل میں توکل کے ساتھ گزارا کرتے ہیں اور شکایت کے بجائے شکر ادا کرتے ہیں۔
مشہور نعت خوان اور شاعر سید سلمان گیلانی مرحوم کہا کرتے تھے کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مالی دباؤ سے تنگ آ کر خودکشی کر رہے ہیں، تاہم کسی امام مسجد، مؤذن یا خادم کی ایسی مثال نہیں ملتی جو مالی مشکلات کے باعث خودکشی کرے۔ ان کا یہ مشاہدہ معاشرے کی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں اس کی اجازت نہیں۔ تاہم ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت، قرض اور گھریلو تنازعات کے باعث خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ سلسلہ نوجوانوں اور نابالغ بچوں تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے افراد کی مدد کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر ادارے موجود نہیں جو انہیں اس انتہائی اقدام سے روک سکیں۔
نجی سطح پر کچھ تنظیمیں ضرور ایسے افراد کی مدد کرتی ہیں اور انہیں بہتر حالات کی امید دلاتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مایوس کن حالات پیدا کرنے والوں کو بھی اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ خودکشی سے نجات تو مل جاتی ہے مگر اس کے بعد اہل خانہ کو کس مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ علاج کی سہولتوں کی کمی اور بے روزگاری جیسے عوامل پر قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔










