around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 28°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: حتمی عدالتی فیصلوں کو مسلسل چیلنج نہیں کیا جا سکتا

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ عدالتوں کے حتمی فیصلوں کو بار بار چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جب تک فراڈ، غلطی یا دائرہ اختیار کی کمی ثابت نہ ہو۔ بھکر میں لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر سے متعلق زمینی تنازعے پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اپیل کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

around.pk·27m ago

وفاقی آئینی عدالت نے عدالتی نظام کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار کوئی فیصلہ حتمی ہو جائے تو اسے دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، الا یہ کہ فراڈ، واضح غلطی یا دائرہ اختیار کی کمی ثابت ہو۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حتمی فیصلوں کو مسلسل چیلنج کرنا قانون کی منشا کے خلاف ہے۔

جسٹس روزی خان بریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بھکر میں ایک خاتون کی زمین پر لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر کے تنازعے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا، جس میں ایک ہی تنازعے کو بار بار عدالتوں میں اٹھانے کو قانون کی روح کے خلاف قرار دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی فیصلوں کو حتمی حیثیت دینا نظام انصاف کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک ہی معاملے پر بار بار مقدمہ بازی کرنا عدالتی عمل کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

کیس کی پس منظر میں یہ تنازع بھکر میں لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی زمین کی ملکیت سے متعلق تھا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسکول ان کی ملکیتی زمین پر تعمیر کیا گیا، اور انہوں نے زمین کی تقسیم اور تعمیر سے متعلق سابقہ فیصلوں کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ عمل درآمد کرنے والی عدالت ڈگری کے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے پہلے سے طے شدہ حقوق میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ زمین کی تقسیم اور دوبارہ الاٹمنٹ کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ تک جا چکا ہے، اور کنسولیڈیشن حکام کا زمین کی تقسیم کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

یہ فیصلہ اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ عدالتی فیصلوں کا احترام اور ان کی حتمیت قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلے مقدمات کے طوالت کو کم کرنے اور عدالتی وسائل کے موثر استعمال میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں