جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا سے 5 ہزار سے زائد ہلاکتیں، 8 صوبے متاثر
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 10 ہزار 300 سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ اموات کی شرح تقریباً 48.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں جاری ایبولا وبا کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزارت صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 26 صوبوں میں سے 8 صوبے اس وقت وبا سے متاثر ہیں، جبکہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 10 ہزار 300 سے بڑھ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں برس مئی میں شروع ہونے والی یہ وبا اگست میں ملک کی تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز وبا قرار دی گئی تھی، جس کی تصدیق صحت عامہ کے حکام نے کی۔ اس وقت اموات کی شرح تقریباً 48.6 فیصد بتائی جا رہی ہے، یعنی ہر دو تصدیق شدہ مریضوں میں سے تقریباً ایک جان سے ہاتھ دھو رہا ہے۔
وزارت صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق وبا کا مرکز اب بھی شمال مشرقی صوبہ اِتوری ہے، جہاں بدامنی اور تنازعات کی صورتحال کے باعث وائرس پر قابو پانے کی کوششوں کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی محدود ہونے سے نہ صرف مریضوں کی بروقت تشخیص متاثر ہو رہی ہے بلکہ رابطہ کاری اور آگاہی مہم کی رفتار بھی سست پڑ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یہ جمہوریہ کانگو کی تاریخ میں ایبولا کا سترہواں پھیلاؤ ہے اور عالمی سطح پر اب تک کی دوسری سب سے بڑی وبا شمار ہوتی ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کو متعدد مرتبہ اس وائرس کا سامنا رہا ہے، تاہم موجودہ پھیلاؤ کی شدت اور جغرافیائی وسعت نے بین الاقوامی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے افریقی دفتر نے کہا ہے کہ اس وبا کے خاتمے کے لیے حفاظتی اقدامات میں مزید تیزی لانا، متاثرہ علاقوں تک رسائی کو بہتر بنانا اور مقامی آبادی میں آگاہی مہم کو وسعت دینا ضروری ہے۔ ادارے کے مطابق ویکسینیشن، محفوظ تدفین کے طریقوں اور بروقت طبی امداد کے ذریعے ہی انفیکشن کی زنجیر کو توڑا جا سکتا ہے۔
ادھر کینیا، نائجیریا اور یوگنڈا میں بھی ایبولا کے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے پیش نظر خطے میں سرحدی نگرانی اور صحت عامہ کی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ علاقوں میں رسائی اور عوامی شعور میں فوری بہتری نہ لائی گئی تو وبا کے مزید پھیلنے کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔







