ایران کا امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ اہداف کی نئی فہرست تیار کرنے کا اعلان
ایرانی فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ مسلح افواج نے امریکا اور اسرائیل سے وابستہ اہداف کی نئی فہرست تیار کر لی ہے، جبکہ سپریم لیڈر نے کسی بھی خطرے کا جغرافیائی حدود سے ماورا جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔

ایران کی مسلح افواج نے امریکا اور اسرائیل سے متعلق ممکنہ اہداف کی ایک نئی اور وسیع فہرست تیار کی ہے۔ ایرانی فوجی سربراہ کے مطابق یہ فہرست کسی بھی ممکنہ نئی جنگ کی صورت میں جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی ہے اور اس میں خطے کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے باہر موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کے تناظر میں مسلح افواج کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی خطرے کا فوری اور جغرافیائی حدود سے ماورا جواب دیا جائے۔ ان کے بیان کے مطابق فوجی قیادت کو حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کے تمام ٹھوس اور غیر ٹھوس اثاثے نئی ہدفی فہرست میں شامل کیے جائیں۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا تھا کہ ایرانی فوجی کمانڈر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں اپنے جوابی اقدامات کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان اقدامات میں ایسے ممالک کی تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران لبنان، یمن اور عراق میں اپنے اتحادی گروہوں کے ساتھ ممکنہ مشترکہ ردعمل کی تیاریوں پر بھی غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب قطر سمیت کئی ممالک امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ خطے کو ایک نئی جنگ سے بچایا جا سکے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق ان کوششوں کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے حل تک پہنچنا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے اور فریقین کی جانب سے جاری بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فوجی ہدفی فہرستوں کا اعلان اور جوابی کارروائی کی ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ممکنہ تنازعے کے لیے وسیع پیمانے پر تیاری کر رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری کی نظریں اس وقت سفارتی کوششوں پر لگی ہیں، جن کا مقصد فریقین کے درمیان تصادم کو روکنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی اور وسیع جنگ کا خطرہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔









