around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

پیٹرول لیوی کے خاتمے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے حتمی مذاکرات 3 نومبر کو

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کو 3 نومبر کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، جہاں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے بتدریج خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے پر حتمی بات چیت ہوگی۔

around.pk·1h ago

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے معاملے پر حتمی مذاکرات 3 نومبر کو ہوں گے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔

لیاقت بلوچ کے مطابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی ان سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور اجلاس کے انعقاد کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد پیٹرول لیوی کا بتدریج خاتمہ اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر نے واضح کیا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینا ہوگا، بصورت دیگر ان کی جماعت ملتان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ سے قبل کوئٹہ، میرپورخاص، بہاولپور، مانسہرہ اور سرگودھا میں عوامی جلسے منعقد کیے جائیں گے، جبکہ مارچ کی تیاریوں کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بات چیت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی عوام پر ڈالے جانے والے اس بوجھ میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ریلیف کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

3 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں حکومتی کمیٹی اور جماعت اسلامی کے نمائندگان لیوی کے بتدریج خاتمے کے طریقہ کار پر غور کریں گے۔ اس حوالے سے پیش رفت پر ملک کی معاشی پالیسی اور عام صارفین کی روزمرہ زندگی دونوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات اس لیے اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کا نتیجہ آئندہ کی سیاسی فضا اور حکومت کے ریلیف پیکج کے دائرہ کار کا تعین کر سکتا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے مثبت اشارے ملنے سے امید ہے کہ اجلاس میں کوئی ٹھوس فارمولا طے پا سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں