around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
دنیا

ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے اپنی کابینہ کو فوجی تربیت کے لیے بھیج دیا

ایتھوپیا میں وزیراعظم ابی احمد نے وزرا، نائب وزرا اور سرکاری اداروں کے سربراہان کو ہرشو کے فوجی تربیتی مرکز میں بھیج دیا ہے، جہاں انہیں فوجی نظم و ضبط اور جسمانی تربیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

around.pk·27m ago

ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے اپنی کابینہ کے وزرا، نائب وزرا اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو فوجی تربیت کے لیے ملک کے علاقے ہرشو میں واقع فوجی تربیتی مرکز بھیج دیا ہے، جہاں انہیں فوجی نظم و ضبط، جسمانی مشقوں اور اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑ رہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی شیئر کی ہیں جن میں وہ خود بھی وزرا اور سرکاری اداروں کے سربراہان کے ہمراہ فوجی مشقوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔

اس تربیت میں ایوانِ وفاق کی اسپیکر موفریات کامل، وزیر خزانہ فیتسم آسفا اور وزیر صحت میکدیس ڈابا سمیت متعدد اہم حکومتی شخصیات شریک ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قیادت کی جسمانی، اخلاقی اور ذہنی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

وزیراعظم ابی احمد کا کہنا ہے کہ قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جسمانی طور پر تندرست، اخلاقی اعتبار سے مستحکم اور ذہنی طور پر اہل ہو۔ انہوں نے فوجی اداروں کو نظم و ضبط، حب الوطنی، ٹیم ورک، جواب دہی اور قیادت کی صلاحیتوں کو سیکھنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ فوجیوں کے سامنے ہدف ہوتا ہے جبکہ عام شہریوں کے مقاصد ہوتے ہیں، لیکن دونوں کی کامیابی کا حتمی مقصد فتح ہی ہے۔

یہ تربیت ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب ایتھوپیا کو متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ شمالی علاقے تیگرائے میں دوبارہ لڑائی جاری ہے، جبکہ امہارا اور اورومیا کے علاقوں میں بھی بدامنی کی صورتحال موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ملک اریٹیریا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ نئے تصادم کے خدشات کو بھی ہوا دی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے اس تربیت کے دورانیے اور اختتام کی تاریخ سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام ملک میں نظم و ضبط اور قیادت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا اندازہ آنے والے وقت میں ہی ہو سکے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں