around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

وزارت اطلاعات کا افغان طالبان پر سخت ردعمل: دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے انکار تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان کے حالیہ بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے مسلسل انکار معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

around.pk·1h ago

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت کا دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے مسلسل انکار پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان کے ٹویٹ کو گمراہ کن سوچ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کا واضح ثبوت ہے جو پاک افغان کشیدہ تعلقات کی اصل وجہ ہے۔

بیان کے مطابق افغان طالبان قیادت مسلسل اسلام آباد کی پالیسیوں پر الزام تراشی کر رہی ہے، جبکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف دو ٹوک ہے اور دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے، جس پر پاکستانی شہریوں کے تحفظ سے متعلق کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزارت نے مزید کہا کہ افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار ایسی دہشت گرد پناہ گاہوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اس کی قومی سلامتی کو متاثر کرتی ہوں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان اپنی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، اور ان خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری براہ راست افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے اپنے عوام کی حفاظت کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیوں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے نہ بحران حل ہوگا اور نہ کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو سکے گا۔ طالبان قیادت کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی کو ان کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ ردعمل افغان طالبان کے ترجمان کے ایک حالیہ سوشل میڈیا پیغام کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے دہرایا کہ خطے میں اعتماد کی بحالی اور معمول کے تعلقات کا انحصار افغان حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی پر ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں