عالمی طاقت کے بدلتے پیمانے اور مسلم دنیا کے لیے معاشی و حکمتِ عملی چیلنجز
عالمی سیاست میں طاقت کے روایتی پیمانے بدل رہے ہیں اور اب جغرافیہ، وسائل، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کا امتزاج اہمیت رکھتا ہے۔ مسلم دنیا کے پاس وسیع وسائل موجود ہیں مگر مشترکہ حکمتِ عملی کی کمی باعث کمزوری ہے۔

عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے خدوخال نے طاقت کے ان روایتی پیمانوں کو نئے سرے سے متعین کر دیا ہے جن کی بنیاد کبھی فوجی برتری، جوہری صلاحیت یا مجموعی قومی معیشت پر رکھی جاتی تھی۔ آج کسی ریاست کے حقیقی اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی محل وقوع، قدرتی وسائل، انسانی سرمائے، صنعتی استعداد اور سفارتی امکانات کو کس حد تک ایک مربوط قومی حکمتِ عملی میں ڈھال سکتی ہے۔
اس معیار پر مسلم ممالک کی موجودہ صورتِ حال دیکھیں تو ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف تیل و گیس کے وسیع ذخائر، اہم سمندری گزرگاہیں، معدنی دولت، بڑی منڈیاں اور نوجوان آبادی کی قوت موجود ہے، تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام، بیرونی معاشی انحصار، علاقائی رقابتیں اور داخلی انتشار اجتماعی صلاحیتوں کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ اسی لیے مسلم دنیا کا بنیادی بحران وسائل کی قلت نہیں بلکہ ان وسائل کو مشترکہ مفادات، پائیدار ترقی اور اجتماعی سلامتی کے لیے استعمال کرنے والے موثر نظام کی کمزوری ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی قوت کے ساتھ تجارت، مالیاتی نظام، ٹیکنالوجی، توانائی اور سفارت کاری کو بھی بروئے کار لاتی ہیں۔ معاشی پابندیاں، منڈیوں تک رسائی کی شرائط، دفاعی معاہدے اور اہم تجارتی راستوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں اسی وسیع تر حکمتِ عملی کے مختلف مظاہر ہیں۔ تاہم ہر عالمی بحران کو کسی خفیہ سازش کا نتیجہ قرار دینا نہ علمی تحقیق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ صحافتی دیانت سے؛ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں قومی مفادات، تاریخی رقابتیں، سلامتی کے خدشات اور معاشی ترجیحات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔
بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاتی ہیں، لیکن داخلی اداروں کی کمزوری، حکمرانی کے مسائل اور باہمی اختلافات ان کے اثرات کو کہیں زیادہ گہرا کر سکتے ہیں۔ مسلم ممالک کو اپنی مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے بیرونی دباؤ کے ساتھ ان داخلی عوامل کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا جنھوں نے انھیں عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے بجائے اکثر ان کے نتائج سے متاثر ہونے والا فریق بنا رکھا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران، فلسطین کا دیرینہ مسئلہ، افریقی خطوں میں جاری تنازعات اور جنوبی ایشیا کا نازک تزویراتی توازن اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ علاقائی کشیدگی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی اقتصادی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں شروع ہونے والے تنازع اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تعطل نے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے کی معیشتوں کو شدید دباؤ سے دوچار کیا ہے۔ رپورٹ میں خطے کی مجموعی اقتصادی پیداوار کے 2025 میں 3.3 فیصد اضافے کے مقابلے میں 2026 کے دوران 2.1 فیصد سکڑنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ خلیجی تیل برآمد کرنے والی معیشتوں پر اس بحران کے اثرات خاص طور پر نمایاں ہیں، کیونکہ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ نے پیداوار، تجارت، سیاحت، فضائی نقل و حمل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم معاشی سبق بھی فراہم کرتی ہے کہ قدرتی وسائل کی فراوانی اور ان وسائل سے حاصل ہونے والی حقیقی اقتصادی خودمختاری دو الگ امور ہیں۔ اگر کسی ملک کی برآمدات خام مصنوعات تک محدود ہوں، صنعتی ضروریات بیرونی ٹیکنالوجی کی محتاج ہوں اور بنیادی درآمدات مخصوص سمندری راستوں سے وابستہ ہوں تو اس کی جغرافیائی اہمیت بیک وقت طاقت بھی بن سکتی ہے اور کمزوری بھی۔ پائیدار خودمختاری کے لیے ضروری ہے کہ وسائل کی افزودگی کو صنعتی صلاحیت، ٹیکنالوجی کی مقامی تیاری، متنوع تجارتی شراکت داری اور مربوط سفارتی حکمتِ عملی میں بدلا جائے۔









