عالمی بینک کا سندھ میں مقامی حکومتوں کی مالی استعداد بڑھانے کے لیے 15 کروڑ ڈالر قرض منظور
عالمی بینک نے سندھ میں بلدیاتی خدمات کی بہتری اور مقامی حکومتوں کی مالی استعداد بڑھانے کے لیے 15 کروڑ ڈالر قرض منظور کر لیا ہے، جس کے تحت کراچی میں سالانہ پراپرٹی ٹیکس وصولی ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عالمی بینک نے سندھ میں مقامی حکومتوں کی مالی استعداد بڑھانے اور بلدیاتی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کے لیے 15 کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم صوبے کے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی اور وسائل میں اضافے پر خرچ کی جائے گی۔
بینک کے مطابق اس پروگرام کے تحت کراچی میں سالانہ پراپرٹی ٹیکس وصولی کو ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل یہ ہدف صرف 85 لاکھ ڈالر تھا۔ یوں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں کئی گنا اضافے کا تصور کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق کراچی میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی شرح کو 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لایا جائے گا۔ منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ سندھ کے بلدیاتی ادارے جمع شدہ پراپرٹی ٹیکس کا 70 فیصد حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کر سکیں گے، جس سے مقامی سطح پر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام سے کراچی کے 25 بلدیاتی اداروں کے تقریباً 35 لاکھ 80 ہزار افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ اقدام شہری آبادی کی بڑی تعداد کے لیے بلدیاتی خدمات کی دستیابی اور ان کی معیار میں بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری کو مضبوط بنانا شہری ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور پراپرٹی ٹیکس کی مؤثر وصولی بلدیاتی اداروں کے اپنے وسائل میں اضافے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس قرض کا مقصد سندھ کے شہری علاقوں میں مالی نظم و نسق کو بہتر بنانا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔










