صومالی قزاقوں کا حملہ: 17 ملاح یرغمال، 10 پاکستانی بھی پھنسے
صومالیہ کے ساحل کے قریب تیل بردار جہاز ایم ٹی آنر 25 کو قزاقوں نے اغوا کر لیا، جس میں سوار 17 ملاحوں میں 10 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

عالمی سمندری تجارت ایک ایسے المناک واقعے سے دوچار ہوئی ہے جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ کئی دیگر ممالک کے خاندانوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ صومالیہ کے ساحل کے قریب تیل بردار بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کو مسلح بحری قزاقوں نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد جہاز پر سوار عملے کی حفاظت اور بحالی ایک بڑا سوال بن گئی ہے۔
اس جہاز نے عمان کی بندرگاہ مسقط سے صومالیہ کی جانب سفر شروع کیا تھا اور اس پر مجموعی طور پر سترہ افراد سوار تھے۔ ان میں دس ملاح پاکستان، چار انڈونیشیا جبکہ ایک ایک ملاح میانمار، بھارت اور سری لنکا سے تعلق رکھتا ہے۔ قزاقوں نے جہاز کو صومالیہ کی نیم خودمختار ریاست پنٹ لینڈ سے تقریباً تیس بحری میل کے فاصلے پر اسلحے کے زور پر اغوا کیا اور تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ خطے میں پہلا یا واحد نہیں ہے، بلکہ گزشتہ برسوں میں اسی نوعیت کے متعدد حملے رونماج ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں غربت، بے روزگاری، قانون کی عمل داری میں کمی اور سیاسی عدم استحکام ایسے واقعات کو ہوا دیتے ہیں۔ طویل عرصے تک ملاحوں کو یرغمال بنائے رکھنا نہ صرف ان کے خاندانوں کے لیے صدمے کا باعث بنتا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین اور سمندری تجارت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
جہاز کے اغوا کی خبر جب سوشل میڈیا کے ذریعے اہل خانہ تک پہنچی تو ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر پیغامات اور اپیلیں گردش کرنے لگیں، اور متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی۔ رابطے کے منقطع ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے پیاروں کی خیریت کی بروقت اطلاع نہ مل سکی، جس سے گھروں میں بے چینی اور اضطراب کی فضا قائم رہی۔
مقامی سطح پر احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بحالی میں تاخیر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ خاندانوں نے پاکستان کے دفتر خارجہ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی سمندری اداروں سے یرغمال ملاحوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے پرزور اپیل بھی کی ہے۔
سمندری جہاز دراصل ایک تیرتے ہوئے شہر کی مانند ہوتا ہے جس میں نیویگیٹرز، انجینئرز، باورچی اور دیگر عملہ مل کر عالمی تجارت کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ ملاح مہینوں تک اپنے خاندانوں سے دور رہتے ہیں اور اس مشکل پیشے کے ذریعے دنیا بھر میں اشیائے ضرورت کی ترسیل کو یقینی بناتے ہیں۔ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ان کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور سمندری راستوں پر قزاقی کے خلاف عالمی تعاون کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔









