around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
ٹیکنالوجی

کراچی کے سمندر میں پہلی بار نایاب اسپرم وہیل کی موجودگی ریکارڈ

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کراچی سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں 45 فٹ طویل اسپرم وہیل کا مشاہدہ ریکارڈ کیا ہے، جو سندھ کے سمندری پانیوں میں اس نوع کی پہلی ریکارڈ شدہ موجودگی ہے۔

around.pk·59m ago

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کراچی کے ساحلی پانیوں میں ایک نایاب اور دیوہیکل سمندری مخلوق، اسپرم وہیل، کی موجودگی ریکارڈ کی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ وہیل کراچی سے تقریباً چالیس ناٹیکل میل جنوب مغرب میں دیکھی گئی اور اس کی لمبائی تقریباً پچاس فٹ بتائی گئی ہے۔ سندھ کے سمندری پانیوں میں اسپرم وہیل کی یہ پہلی ریکارڈ شدہ موجودگی قرار دی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ ممبر کے مطابق سمندری مہم کے دوران اس وہیل کی ویڈیو بھی بنائی گئی، جس میں اس کے سر پر موجود مخصوص سانس لینے کا سوراخ، جلد پر نمایاں نشانات اور جسم پر ابھری ہوئی کوہان واضح طور پر قید ہوئے۔ یہ مشاہدہ ملکی سمندری تحقیق کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔

ادارے کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق پاکستان کے سمندری پانیوں میں اسپرم وہیل کی موجودگی ایک غیرمعمولی حیاتیاتی تنوع کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے سمندری پانیوں میں وہیل اور ڈولفن کی چھبیس اقسام ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں بلیو وہیل، برائیڈز وہیل اور عربین سی ہمپ بیک وہیل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کی تحقیق اور نگرانی کے نتیجے میں دانتوں والی وہیل کی کئی اقسام کی پاکستان کے پانیوں میں پہلی بار موجودگی بھی ریکارڈ ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسپرم وہیل سمندر میں پائے جانے والے سب سے بڑے دانتوں والے جانوروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک سمندری ممالیہ ہے جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے اور تقریباً ساٹھ سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا غیرمعمولی طور پر بڑا سر ہے اور اس کا دماغ کسی بھی موجودہ جانور کے مقابلے میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ مخلوق خوراک کی تلاش میں عموماً تین سو سے آٹھ سو میٹر گہرائی تک غوطہ لگاتی ہے، جبکہ بعض اوقات ایک سے دو کلومیٹر کی گہرائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

اسپرم وہیل کی خوراک میں دیوہیکل اسکویڈ، مختلف اقسام کے اسکویڈ، آکٹوپس اور گہرے سمندر کی مچھلیاں شامل ہیں۔ یہ سمندر کی تاریکی میں آواز کی لہروں کے ذریعے اپنے شکار کا پتا لگاتی ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں ایکولوکیشن کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک منفرد خصوصیت اس کے سر کے بائیں جانب موجود سانس لینے کا سوراخ ہے، جس کی وجہ سے پانی کی سطح پر سانس خارج کرتے وقت اس کا فوارہ ایک مخصوص زاویے پر دکھائی دیتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات، ذمہ دارانہ ماہی گیری، سمندری آلودگی میں کمی اور تحقیق و نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام کا تحفظ ہی وہیل، ڈولفن اور دیگر نایاب سمندری مخلوقات کی بقا کو یقینی بنا سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں