اسرائیل میں انتخابی نتائج کے بعد سیاسی بحران، مظاہروں میں نیتن یاہو کے خلاف اتحاد کا مطالبہ
اسرائیل میں غیر حتمی انتخابی نتائج کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، تل ابیب اور یروشلم میں مظاہرین نے سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے عرب جماعتوں سے اتحاد کریں۔

اسرائیل میں غیر حتمی انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ تل ابیب اور یروشلم کی سڑکیں مظاہرین سے بھر گئیں، جہاں سیکڑوں افراد نے اپوزیشن لیڈر اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے عرب سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کریں۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق 120 نشستوں والے ایوان میں کسی بھی بلاک کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ نیتن یاہو کی مخالف یہودی جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب اکثریت والی دو جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتی ہیں، جو اپنی نوعیت کا ایک ریکارڈ ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان 4 نومبر کو کیا جائے گا۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے عرب جماعتوں کی ریکارڈ کامیابی کو انتخابی دھاندلی قرار دیا ہے، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ادھر غزہ کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ اسرائیلی فوج کی گولی باری اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ وسطی غزہ کی پٹی کے المغازی کیمپ کے مشرق میں فائرنگ سے پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ انتخابی نتائج کی غیر حتمی حیثیت اور کسی بھی بلاک کی واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث اسرائیلی سیاست میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عرب جماعتوں کی بڑھتی ہوئی نشستوں نے مستقبل کی حکومت سازی کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد امور زیر التوا رہتے ہیں۔








