اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایئرپورٹ سے لاپتا پاکستانی نژاد امریکی خاتون کی بازیابی پر ایف آئی اے اور پولیس سے رپورٹ طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سفری پابندی کے باعث ایئرپورٹ سے آف لوڈ کی گئی 61 سالہ پاکستانی نژاد امریکی خاتون کی مبینہ گمشدگی پر ایف آئی اے اور پولیس کو تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے آف لوڈ کی گئی ایک 61 سالہ پاکستانی نژاد امریکی خاتون کی مبینہ گمشدگی کے معاملے پر ایف آئی اے اور پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جسٹس شاہ رخ ارجمند کی سربراہی میں عدالت نے خاتون کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ معاملے کی تحقیقات کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔
درخواست گزار وکیل بیرسٹر محمد علی عباس راجا نے عدالت کو بتایا کہ خاتون اسلام آباد میں تنہا رہائش پذیر تھیں جبکہ ان کے شوہر اور دیگر اہل خانہ بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کے مطابق خاتون کو 5 نومبر کو ترک ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے استنبول کے راستے واشنگٹن ڈی سی جانا تھا اور وہ رات تقریباً تین بجے ایئرپورٹ پہنچیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ امیگریشن کاؤنٹر پر خاتون کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا، تاہم انہیں روکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی کوئی حکم نامہ یا قانونی دستاویز دکھائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان کا نام کسی سفری پابندی کی فہرست میں شامل ہے یا ان کے خلاف کوئی مقدمہ زیر التوا ہے۔
درخواست کے مطابق خاتون کی پرواز روانہ ہو گئی لیکن حکام نے انہیں ایئرپورٹ سے باہر جانے یا گھر واپس آنے کی اجازت نہیں دی۔ وکیل نے بتایا کہ خاتون کو نہ کوئی وارنٹ دکھایا گیا، نہ گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق 5 نومبر کی صبح گیارہ بجے کے بعد سے خاتون کا موبائل فون بند ہے اور ان سے رابطہ نہیں ہو سکا، جس پر خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انہیں کسی نامعلوم مقام پر غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ امیگریشن حکام نے سفری پابندی کے باعث خاتون کو آف لوڈ کیا اور اس کے بعد انہیں واپس بھیج دیا گیا، تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں کہ خاتون کہاں گئیں۔ عدالت نے معاملے کی مکمل تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کو آگے بڑھایا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں ہوائی اڈوں پر امیگریشن اور سفری پابندیوں کے حوالے سے شفافیت اور قانونی طریقہ کار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ عدالت کی جانب سے تحقیقات کا حکم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام کو شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا ہو گا۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے اور پولیس کو ہدایت دی کہ وہ خاتون کی بازیابی کے لیے اقدامات کریں اور کیس کی حقیقتوں پر مبنی رپورٹ مقررہ تاریخ پر پیش کریں۔ حکام کی جانب سے تفصیلی جواب آنے کے بعد معاملے کی مزید قانونی حیثیت واضح ہو گی۔









