around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 29°☀ لاہور 25°☀ اسلام آباد 23°
دنیا

ایرانی وزیر خارجہ کا خطے کے ممالک کو انتباہ: ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں

عباس عراقچی نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کی ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا حصہ نہ بنیں اور واشنگٹن کو سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔

around.pk·3h ago

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا حصہ نہ بنیں اور واشنگٹن کو جنگ کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔ یہ بات انہوں نے روسی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے علاقائی صورتحال اور ایران کی دفاعی حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

عراقچی کے مطابق ایران نے ماضی میں خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا تھا، اور ہمسایہ ممالک کو پہلے ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ امریکی حملے کی صورت میں یہی اڈے نشانہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں گرنے والے ایرانی میزائلوں کی ذمہ داری تہران پر عائد نہیں ہوتی، کیونکہ ایران کا ہدف صرف غیر ملکی فوجی موجودگی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ امریکی فوجی اڈے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ خود بھی اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے علاقائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف کسی نئی جنگ کی حمایت کے بجائے امریکا کو فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے اس میں کمی اور امن کے قیام کی کوششیں ہونی چاہئیں، اور انہیں امید ہے کہ خطے کے ممالک ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ چکے ہوں گے اور کسی نئے تصادم کا حصہ بننے سے گریز کریں گے۔

انٹرویو کے دوران عراقچی نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی اور ان کی تصاویر جاری نہ کیے جانے سے متعلق بھی وضاحت دی۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث تصاویر منظرعام پر نہیں لائی جا رہیں، تاہم وہ بطور سپریم لیڈر تمام اہم ریاستی امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور حکومتی و ریاستی فیصلے ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

عراقچی کے مطابق ایران کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے سکیورٹی کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی ذمہ داریاں انتہائی فعال انداز میں انجام دے رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہیں اور سفارتی کوششوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی ممالک کے رویے کا مستقبل میں خطے کے امن و استحکام پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں