around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
کاروبار

ایف بی آر چار ماہ کے ٹیکس ہدف میں ناکام، 96 ارب روپے کی کمی کا انکشاف

ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں 96 ارب روپے کی کمی سامنے آئی ہے۔ اکتوبر میں بھی 129 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔

around.pk·4m ago

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران مقررہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں 96 ارب روپے کی مجموعی کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ شارٹ فال جولائی تا اکتوبر کے عرصے میں سامنے آیا، جس سے ادارے کی کارکردگی اور محصولات کی وصولی کے عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اکتوبر کے مہینے میں بھی ایف بی آر کو مقررہ ہدف کے مقابلے میں 129 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ادارے نے ایک ہزار 3 ارب روپے کی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں کیں، جبکہ اس مدت کے لیے ہدف ایک ہزار 132 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں رواں اکتوبر میں ٹیکس وصولیوں میں صرف پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چار ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایف بی آر نے 4 ہزار 89 ارب روپے کی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں کیں، جبکہ اس عرصے کے لیے ہدف 4 ہزار 185 ارب روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے چار ماہ کے مقابلے میں اس سال مجموعی وصولیوں میں بھی صرف چھ فیصد اضافہ ہوا، جو کہ معیشت کے لیے تشویشناک اشارہ ہے۔

ادارے کے ذرائع نے بتایا کہ اب تک ٹیکس دہندگان کی جانب سے مجموعی طور پر 77 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی، جس سے ٹیکس دہندگان کی جانب سے ریکارڈ جمع کرانے کی رفتار پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی حکومت کے مالیاتی اہداف کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق محصولات کی کم وصولی سے بجٹ خسارہ بڑھنے اور ترقیاتی منصوبوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے شدہ اہداف پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے اب تک اس کمی کے اسباب سے متعلق کوئی تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکس بیس کی تنگی، معاشی سست روی اور گوشواروں کی کم شرح جمع آوری جیسے عوامل اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ادارے کے لیے آئندہ مہینوں میں ہدف کے مطابق وصولیاں یقینی بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں