around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 17°
صحت

جناح اسپتال میں جینیاتی بیماری کے مریضوں کو 13 لاکھ روپے مالیت کا سیرپ مفت فراہم

سندھ حکومت نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں اسپائنل مسکولر ایٹروفی کے مریضوں کے لیے مفت علاج کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت 25 مریضوں کو 13 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی دوا کی پہلی خوراک فراہم کی گئی ہے۔

around.pk·3h ago

سندھ حکومت نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں اسپائنل مسکولر ایٹروفی (ایس ایم اے) نامی موروثی جینیاتی بیماری میں مبتلا بچوں اور بالغ مریضوں کے لیے مہنگے علاج کی مفت فراہمی کا عملی آغاز کر دیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق انمول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ 25 مریضوں کو ریسڈیپلام سیرپ کی پہلی بوتل فراہم کی گئی ہے، جس کی قیمت 13 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ رجسٹرڈ مریضوں میں 21 بچے اور 4 بالغ افراد شامل ہیں۔

محکمہ صحت سندھ نے ان مریضوں کے چار سالہ علاج کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ پروگرام کے تحت ہر مریض کو سالانہ 24 بوتلیں فراہم کی جائیں گی، اس طرح چار سال کے دوران ایک مریض کو مجموعی طور پر 96 بوتلیں مفت دی جائیں گی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دوا کی خریداری میں روش پاکستان کے تعاون سے معاہدہ بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک بوتل خریدنے پر مزید تین بوتلیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں 25 مریضوں کی رجسٹریشن اور دوا کی فراہمی کے بعد مزید اہل مریضوں کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ یہ بورڈ مریضوں کی بیماری، تشخیصی رپورٹس اور دیگر طبی دستاویزات کا جائزہ لے گا، جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم تشخیص کی تصدیق اور علاج کے لیے اہلیت کا تعین کرے گی۔ اس کے بعد اہل مریضوں کو انمول پروگرام میں رجسٹر کر کے حکومت سندھ کے خرچ پر دوا فراہم کی جائے گی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق خصوصی میڈیکل بورڈ کے ذریعے رجسٹریشن کا نظام متعارف کرانے کا مقصد یہ ہے کہ مریضوں کی طبی حالت کی تصدیق، علاج کی ضرورت اور اہلیت کا تعین شفاف طبی طریقہ کار کے تحت کیا جا سکے اور سرکاری وسائل حقیقی مستحق مریضوں تک پہنچائے جا سکیں۔ اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں صرف کم عمر بچوں کو ہی نہیں بلکہ ایس ایم اے سے متاثرہ بالغ مریضوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اسپائنل مسکولر ایٹروفی ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے جو جسم کے پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیات کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں پٹھے بتدریج کمزور ہو جاتے ہیں اور مریض کو بیٹھنے، چلنے پھرنے اور جسمانی حرکات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیماری کی شدت بڑھنے پر بعض مریضوں کو خوراک نگلنے اور سانس لینے میں بھی مشکل پیش آ سکتی ہے، جس کے باعث انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ریسڈیپلام ایس ایم اے کے علاج کے لیے مخصوص دوا ہے جو بیماری کی پیش رفت کو سست کرنے میں مدد دیتی ہے، اور اس کی مسلسل فراہمی علاج میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوا کے چار سال تک مستقل استعمال سے مریض عام زندگی کی طرف واپس لوٹ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دوا کی بے حد زیادہ قیمت کے باعث یہ علاج عام خاندانوں کی مالی استطاعت سے باہر تھا، جسے اب سرکاری فنڈنگ کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں