around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 29°⛅ لاہور 24°☀ اسلام آباد 19°
صحت

راولپنڈی میں ڈینگی کے کیسز 84 تک پہنچ گئے، محکمہ صحت کی بڑی کارروائی

محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 84 ہو گئی ہے جبکہ 438 مشتبہ مریض اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، تاہم رواں سال اب تک کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

around.pk·10m ago

راولپنڈی میں ڈینگی بخار کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور محکمہ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شہر بھر میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 84 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 438 مریض جن میں ڈینگی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، مختلف اسپتالوں میں داخل ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق راولپنڈی کے اسپتالوں میں اب تک مجموعی طور پر 6 ہزار 397 مریضوں کی ڈینگی اسکریننگ کی گئی ہے۔ ان میں سے 5 ہزار 875 مریض مشتبہ قرار دیے گئے جبکہ 84 کیسز لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد کنفرم ہوئے، جبکہ کوئی بھی پروبیبل کیس سامنے نہیں آیا۔

ادارے کے مطابق رواں سال راولپنڈی میں ڈینگی کے باعث اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جو ایک تسلی بخش امر ہے۔ ماہانہ تفصیلات کے مطابق ستمبر میں 27 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اکتوبر میں یہ تعداد بڑھ کر 51 ہو گئی، تاہم نومبر میں اب تک کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔

ڈینگی کی روک تھام کے لیے محکمہ صحت نے شہر بھر میں وسیع پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے اور 1,400 ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں۔ سرویلنس مہم کے دوران 59 لاکھ 8 ہزار 794 گھروں کی چیکنگ مکمل کی گئی، جن میں سے 2 لاکھ 15 ہزار 647 گھروں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

مزید برآں شہر میں 20 لاکھ 36 ہزار 630 مقامات کا معائنہ کیا گیا اور 27 ہزار 552 مقامات سے لاروا برآمد ہوا، جس کے بعد انسداد ڈینگی کارروائیوں کے دوران 2 لاکھ 43 ہزار 199 لاروا تلف کیے گئے۔ محکمہ صحت کے مطابق لاروا کی نشاندہی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 2 ہزار 798 مقدمات درج کیے گئے۔

کارروائیوں کے دوران 686 مقامات کو سیل کیا گیا، 2 ہزار 331 چالان کیے گئے اور خلاف ورزیوں پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ماہرین صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھروں اور دفاتر میں پانی جمع نہ ہونے دیں، برتنوں اور ٹینکیوں کو ڈھانپ کر رکھیں اور بخار کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں